CharonUse these settings →
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جو ہر مسلمان کی زندگی کا حصہ ہے… صبر اور توکل۔ دنیا میں کوئی بھی انسان ایسا نہیں جسے مشکلات، پریشانیاں یا آزمائشیں نہ آئیں۔ کبھی رزق کی تنگی، کبھی بیماری، کبھی رشتوں کے مسائل… لیکن ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ ان حالات میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے" صبر کا مطلب صرف خاموش رہنا نہیں… بلکہ دل کو مضبوط رکھنا، شکایت نہ کرنا، اور اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا ہے۔ جب ہم صبر کرتے ہیں، تو اللہ ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا… بلکہ ہماری مدد فرماتا ہے، ہمیں سکون دیتا ہے، اور بہتر راستے کھول دیتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں توکل کی… توکل کا مطلب ہے اللہ پر مکمل بھروسہ کرنا۔ یعنی اپنی پوری کوشش کرنا… اور نتیجہ اللہ کے حوالے کر دینا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر تم اللہ پر ویسا ہی بھروسہ کرو جیسا کرنا چاہیے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتے ہیں۔" یہی ہے اصل توکل… کوشش بھی، اور یقین بھی۔ یاد رکھیں، صبر اور توکل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جب مشکل آئے تو صبر کریں… اور دل میں یقین رکھیں کہ اللہ بہتر کرے گا۔ اکثر ہم جلدی مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن اللہ کی پلاننگ ہمیشہ بہترین ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے جو چیز آپ چاہتے ہیں وہ آپ کے لیے نقصان دہ ہو… اور جو اللہ دیتا ہے وہی آپ کے لیے بہتر ہو۔ آخر میں بس یہی پیغام ہے: مشکل وقت میں ہمت نہ ہاریں، صبر کریں، دعا کریں، اور اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں۔ کیونکہ جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے… تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ جزاکم اللہ خیراً والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
0:00 / 0:00