AchirdUse these settings →
اس دوران ناجی ایک بار پھر صلاح الدین ایوبی سے ملا لیکن اس نے کوئی شکایت نہ کی ۔ تفصیلی رپورٹ دے کر صلاح الدین ایوبی کو مطمئن کر دیا کہ ساتویں روز دونوں فوجیں ایک ہو جائیں گی ۔ صلاح الدین ایوبی کے نائبین نے بھی اسے یقین دلایا کہ ناجی دیانت داری سے تعاون کر رہا ہے ، مگر علی بن سفیان کی رپورٹ کسی حد تک پریشان کن تھی ۔ اس کی انٹیلی جنس سروس نے رپورٹ دی تھی کہ سوڈانی فوج کے سپاہیوں میں بے اطمنانی اور ابتری سی پائی جاتی ہے۔ وہ مصری فوج میں مدغم ہونے پر خوش نہیں ۔ ان کے درمیان یہ افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں کہ مصری فوج میں مدغم ہو کر ان کی حیثیت غلاموں کی سی ہو جائے گی ۔ انہیں مقل غنیمت بھی نہیں ملے گا اور ان سے بار برداری کا کام لیا جائے گا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہیں شراب نوشی کی اجازت نہیں ہوگی ۔ علی بن سفیان نے یہ رپورٹیں صلاح الدین ایوبی تک پہنچا دیں ۔ ایوبی نے اسے کہا کہ یہ لوگ طویل مدت سے عیش کر رہے ہیں ۔ انہیں نئی تبدیلی یقیناً پسند نہیں آئے گی ۔ مجھے اُمید ہے کہ وہ نئے حالات اور ماحول کے عادی ہو جائیں گے ۔ " اس لڑکی سے ملاقات ہوئی یا نہیں؟“ صلاح الدین ایوبی نے پوچھا۔ " نہیں " علی نے جواب دیا ۔ " اس سے ملاقات ممکن نظر نہیں آتی ۔ میرے آدمی ناکام ہو چکے ہیں ۔ ناجی نے اُسے قید کر رکھا ہے ؟ اس سے اگلی رات کا واقعہ ہے ۔ رات ابھی ابھی تاریک ہوئی تھی ۔ ذوکوئی اپنے کمرے میں تھی ۔ ناجی اوروش کے ساتھ اپنے کمرے میں تھا۔ اُسے گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے پردہ ہٹا کر دیکھا ۔ باہر کے چراغوں کی روشنی میں اُسے دو گھوڑا سوار گھوڑوں سے اترتے دکھائی دیئے ۔ لباس سے وہ تاجر معلوم ہوتے تھے ۔ لیکن وہ گھوڑوں سے اُتر کرناجی کے کمرے کی طرف چلے تو اُن کی چال بتاتی تھی کہ یہ تاجر نہیں ۔ اتنے میں اوروش باہر نکلا ۔ دونوں سوار اُسے دیکھ کر رک گئے اور اوروش کو سپاہیوں کے انداز سے سلام کیا ۔ اوروش نے اُن کے گرد گھوم کر ان کے لباس کا جائزہ لیا ۔ پھر انہیں کہا کہ ہتھیار دکھاؤ ۔ دونوں نے پھرتی سے چغے کھولے اور ہتھیار دکھائے ۔ اُن کے پاس چھوٹی تلواریں اور ایک ایک خنجر تھا ۔ اوروش انہیں اندرے گیا ۔ دربان ایک طرف کھڑا تھا ذوکوئی گہری سوچ میں کھو گئی ۔ وہ کمرے سے نکلی اور ناجی کے کمرے کا رخ کیا مگر دربان نے اسے دروازے پر روک لیا اور کہا کہ اُسے حکم ملا ہے کہ کسی کو اندر نہ جانے دوں
0:00 / 0:00