وقت گزرتا گیا۔ عائشہ بڑی ہو گئی، مگر اس کی مشکلات کم نہ ہوئیں۔ اس کے ہاتھوں کی نرمی اب سختی میں بدل چکی تھی، مگر اس کے دل کی نرمی اب بھی باقی تھی۔ پھر ایک دن گاؤں میں ایک بڑی اور قیمتی گاڑی آئی۔ لوگ حیرت سے دیکھنے لگے۔ اس میں سے ایک نوجوان اترا—احمد۔ وہ نہایت خوبصورت، باوقار اور امیر تھا، مگر اس کے چہرے پر عاجزی تھی۔ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے آیا تھا۔ ایک دن وہ گاؤں کی گلیوں میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر عائشہ پر پڑی۔ وہ سر جھکائے پانی بھر کر لا رہی تھی۔ اس کے کپڑے سادہ تھے، مگر اس کی شخصیت میں عجیب سی وقار اور صبر تھا۔ احمد رک گیا۔ اس نے پہلی بار کسی کو اس طرح دیکھا تھا—خاموش، مگر مضبوط۔ اس نے گاؤں والوں سے اس کے بارے میں پوچھا۔ جب اسے عائشہ کی کہانی پتا چلی، تو اس کا دل دکھ سے بھر گیا۔ اس نے سوچا، “ایسی لڑکی اس زندگی کی حقدار نہیں ہے۔” چند دن بعد احمد نے اپنے والدین سے بات کی اور عائشہ کے لیے رشتہ بھیج دیا۔ جب چچی کو پتا چلا کہ لڑکا امیر ہے، تو اس کی آنکھوں میں لالچ چمک اٹھا۔ “ہاں ہاں! کیوں نہیں! ہمیں منظور ہے!” اس نے فوراً جواب دیا۔ عائشہ حیران تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کی زندگی واقعی بدلنے والی ہے۔ جلد ہی شادی ہو گئی۔ عائشہ نے سادہ لباس میں بھی سب کے دل جیت لیے۔ احمد نے اس کی آنکھوں میں وہی دکھ دیکھا، مگر ساتھ ہی ایک امید بھی۔ شادی کے بعد عائشہ شہر چلی گئی۔ احمد کا گھر بہت بڑا اور خوبصورت تھا، مگر اس سے بھی زیادہ خوبصورت اس کا دل تھا۔ وہ عائشہ سے نرمی سے بات کرتا، اس کی ہر بات کا خیال رکھتا۔ “عائشہ، اب تمہیں کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔” یہ الفاظ عائشہ کے لیے کسی مرہم سے کم نہیں تھے۔ پہلی بار اس نے سکون کی نیند سوئی۔ پہلی بار اس نے بغیر ڈر کے مسکرایا۔
0:00 / 0:00