CharonUse these settings →
تاتاری اور باشکیر جیسی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ روس کی مضبوط معیشت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ تیل اور گیس کے ذخائر روس کے پاس بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ اسی وجہ سے اگر امریکہ پابندیاں بھی لگائے تو روس کو فرق نہیں پڑتا۔ اس کا اندازہ آپ یہاں سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جیسے پوری دنیا میں ایران، اسرائیل اور امریکہ جنگ کی وجہ سے تیل مہنگا ہو رہا ہے۔ لیکن روس کو اس سے فرق نہیں پڑ رہا۔ آج بھی روس میں پیٹرول کی قیمت پینسٹھ روبل کے قریب ہے جو پاکستانی دو سو بیس روپے بنتے ہیں۔ روس میں تیل کے ذخائر اکتیس ارب ٹن ہیں۔ یعنی آج سے آگے پینسٹھ سال تک تیل نکالا جا سکتا ہے۔ روس تیل کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ جبکہ گیس کے ذخائر میں یہ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ گندم کی پیداوار میں بھی روس دنیا میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ ملٹری انڈسٹری میں بھی روس دنیا میں ایک الگ مقام رکھتا ہے اور پوری دنیا کو ہتھیار بھی ایکسپورٹ کرتا ہے۔ دوستو کیا آپ جانتے ہیں کہ کیوں امریکہ کو روس ہمیشہ کھٹکتا ہے؟ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے زیادہ طاقتور فوج بھی روس کی مانی جاتی ہے۔ آج روس کی آرمی میں تیرہ لاکھ بیس ہزار فوجی ہیں اور ریزرو میں پینتیس لاکھ کے قریب فوجی ہیں۔ اس کے علاوہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی تعداد پانچ ہزار چار سو انسٹھ کے قریب ہے۔ یعنی امریکہ اور روس کے نیوکلیئر ہتھیاروں کو اکٹھا کیا جائے تو یہ پوری دنیا کا ستاسی فیصد بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ روس کا سب سے مشہور دفاعی نظام ایس پانچ سو ہے۔ ملک کا صدر ولادیمیر پیوٹن ہے جو اس وقت دنیا کی با اثر شخصیات میں سے ایک ہے اور اس ملک کا دارالحکومت ماسکو شہر ہے جو ملک کا اقتصادی اور معاشی مرکز بھی ہے۔ یہ شہر انتہائی خوبصورت اور جدید ہے۔
0:00 / 0:00