لاکھوں البانوی پچھلے تیس سالوں میں اٹلی، یونان، جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک میں جا بس

لاکھوں البانوی پچھلے تیس سالوں میں اٹلی، یونان، جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک میں جا بسے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وہ لوگ نہ جاتے تو آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ ہوتی۔ البانیہ کے پڑوسی ملک ہیں یونان، سربیا، کوسوو، شمالی مقدونیہ اور مونٹی نیگرو۔ یعنی یہ بالکل بلقان کے بیچ میں ہے۔ البانیہ کا ذکر قدیم الیرین قوم سے ملتا ہے جو ہزاروں سال پہلے یہاں رہتی تھی۔ پھر یونانی آئے، رومی آئے، بازنطینی آئے اور پھر ایک طویل سفر کے بعد عثمانی سلطنت نے اس علاقے پر پانچ سو سال تک حکومت کی۔ اور اسی وجہ سے یہاں اکثریت مسلمان ہو گئی۔ انیس سو بارہ میں البانیہ نے عثمانی سلطنت سے آزادی حاصل کی۔ لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ واقعی عجیب ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد انیس سو پینتالیس میں البانیہ پر کمیونسٹ پارٹی کی حکومت آئی۔ اور اس حکومت کا سربراہ تھا انور خوجہ۔ ایک ایسا شخص جس نے البانیہ کو دنیا کے باقی تمام ممالک سے بالکل الگ کر دیا۔ یوگوسلاویہ سے تعلق توڑا، سوویت یونین سے تعلق توڑا۔ یہاں تک کہ چین سے بھی تعلق توڑ لیا اور انیس سو سڑسٹھ میں انور خوجہ نے ایک ایسا قانون بنایا جو تاریخ میں انوکھا ہے۔ اس نے البانیہ کو دنیا کا پہلا سرکاری طور پر ملحد ملک قرار دے دیا۔ مساجد بند ہو گئیں۔ چرچ بند ہو گئے۔ نماز پڑھنا، کراس پہننا، بائبل یا قرآن رکھنا سب کچھ جرم بن گیا۔ جو کوئی مذہبی عمل کرتا اسے جیل بھیج دیا جاتا۔ یہ صورتِ حال انیس سو اکیانوے تک جاری رہی۔ جب کمیونزم کا خاتمہ ہوا۔ اور ایک اور حیران کن بات انور خوجہ کو اتنا ڈر تھا کہ کوئی ملک حملہ کر دے گا۔ اس نے پورے البانیہ میں سات لاکھ سے زیادہ بنکر بنوائے۔ چھوٹے چھوٹے گنبدنما بنکر جو آج بھی کھیتوں میں، پہاڑوں پر، سڑکوں کے کنارے نظر آتے ہیں۔

More Urdu Voice Samples

chirp3-hd:Charon

اور آج تیرانہ یورپ کے سب سے رنگین شہروں میں سے ایک ہے۔ نارنجی، نیلا، سبز، گلابی۔ ہر ع

اور آج تیرانہ یورپ کے سب سے رنگین شہروں میں سے ایک ہے۔ نارنجی، نیلا، سبز، گلابی۔ ہر عمارت کا اپنا رنگ۔ تیرانہ کا دل ہے س

chirp3-hd:Charon

اور آج تیرانہ یورپ کے سب سے رنگین شہروں میں سے ایک ہے۔ نارنجی، نیلا، سبز، گلابی۔ ہر ع

اور آج تیرانہ یورپ کے سب سے رنگین شہروں میں سے ایک ہے۔ نارنجی، نیلا، سبز، گلابی۔ ہر عمارت کا اپنا رنگ۔ تیرانہ کا دل ہے س

chirp3-hd:Charon

لیکن ملک مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ دو ہزار چوبیس اور دو ہزار پچیس میں جی ڈی پی گروتھ تقری

لیکن ملک مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ دو ہزار چوبیس اور دو ہزار پچیس میں جی ڈی پی گروتھ تقریباً چار فیصد رہی جو یورپ میں سب سے

chirp3-hd:Charon

لیکن ملک مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ دو ہزار چوبیس اور دو ہزار پچیس میں جی ڈی پی گروتھ تقری

لیکن ملک مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ دو ہزار چوبیس اور دو ہزار پچیس میں جی ڈی پی گروتھ تقریباً چار فیصد رہی جو یورپ میں سب سے

chirp3-hd:Charon

یہ بنکر البانیہ کی پہچان بن گئے ہیں اور سیاح انہیں دیکھنے خاص طور پر جاتے ہیں۔ انیس س

یہ بنکر البانیہ کی پہچان بن گئے ہیں اور سیاح انہیں دیکھنے خاص طور پر جاتے ہیں۔ انیس سو اکیانوے میں کمیونزم ختم ہوا تو ال

chirp3-hd:Charon

یہ بنکر البانیہ کی پہچان بن گئے ہیں اور سیاح انہیں دیکھنے خاص طور پر جاتے ہیں۔ انیس س

یہ بنکر البانیہ کی پہچان بن گئے ہیں اور سیاح انہیں دیکھنے خاص طور پر جاتے ہیں۔ انیس سو اکیانوے میں کمیونزم ختم ہوا تو ال

← Return to Studio