جنگل بہت بڑا اور گھنا تھا جہاں ہر طرف سبز درخت، بہتی ہوئی ندیاں اور مختلف جانوروں کی

جنگل بہت بڑا اور گھنا تھا جہاں ہر طرف سبز درخت، بہتی ہوئی ندیاں اور مختلف جانوروں کی آبادیاں تھیں۔ اسی جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا جس کا نام زردان تھا۔ زردان پورے جنگل کا خود ساختہ بادشاہ تھا۔ وہ ہر جانور پر اپنی دھاک جمائے رکھتا تھا اور اکثر بغیر وجہ کے بھی کسی نہ کسی کو ڈرا دھمکا دیتا تھا۔ اسی جنگل کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا خرگوش رہتا تھا جس کا نام میلو تھا۔ میلو بہت ذہین، ہوشیار اور نرم دل تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی عقل سے مسائل حل کرتا تھا اور دوسرے جانوروں کی مدد بھی کرتا تھا۔ مگر وہ شیر کے ظلم سے سب سے زیادہ پریشان رہتا تھا کیونکہ شیر اکثر چھوٹے جانوروں کو تنگ کرتا تھا۔ ایک دن جنگل میں شدید گرمی تھی اور پانی کی کمی ہو رہی تھی۔ ندی کا پانی بھی کم ہو گیا تھا۔ تمام جانور پریشان تھے کہ اگر پانی ختم ہو گیا تو وہ کہاں جائیں گے۔ اسی دوران شیر زردان نے اعلان کیا کہ اب صرف وہی جانور ندی سے پانی پی سکتا ہے جو اسے خراج دے گا۔ اس اعلان سے پورا جنگل خوفزدہ ہو گیا۔ میلو خرگوش نے یہ سنا تو وہ خاموش نہ رہا۔ اس نے سوچا کہ اگر سب ایسے ہی ڈرتے رہے تو شیر ہمیشہ ظلم کرتا رہے گا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود شیر کے پاس جائے گا اور اس کا حل نکالے گا۔ سب جانوروں نے اسے روکا لیکن میلو نے کہا کہ کبھی کبھی کمزور کا عقل سے مضبوط کا مقابلہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ میلو آہستہ آہستہ شیر کے غار کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اسے لومڑی ملی جس نے اسے کہا کہ تم پاگل ہو گئے ہو، شیر تمہیں ایک لمحے میں مار دے گا۔ مگر میلو نے مسکرا کر کہا کہ جو دماغ سے لڑتا ہے وہ ہمیشہ طاقت سے نہیں ڈرتا۔ جب میلو شیر کے غار کے پاس پہنچا تو شیر دھوپ میں آرام کر رہا تھا۔ اس کے گرد ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں۔ میلو نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ اے جنگل
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio