اگر وہ سچ میں زندہ ہے تو کیا وہ ایسے ہی لوگوں کے پاس جائے گا یا پھر اپنے دشمنوں کے پا

اگر وہ سچ میں زندہ ہے تو کیا وہ ایسے ہی لوگوں کے پاس جائے گا یا پھر اپنے دشمنوں کے پاس بھی میں جانتا تھا یہ سوال کا جواب مجھے چین نہیں لینے دے گا ایک رات جب شہر میں بلکل سناٹا تھا اور گلیاں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی مجھے ایک حکم ملا کوئی مجھ سے ملنا چاہتا تھا یہ حکم نہیں تھا اور نہ ہی کوئی دھمکی صرف ایک سادہ سا بلاوا میں بہت دیر تک کھڑا سوچتا رہا جاوں کہ نہیں ? کیونکہ میں جانتا تھا اگر میں گیا تو لوٹ کر جیسا ہوں ویسا نہیں آونگا آخر میں چلا گیا کیونکہ جو ڈر مجھے روک رہا تھا اس سے بڑا ڈر یہ تھا اگر میں نہیں گیا تو شاید پوری زندگی بھاگتا رہونگا وہ ایک عام سی جگہ تھی ایک چھوٹا سا صحن اور تیل کے جلتے ہوئے دیے کی ہلکی روشنی اور کچھ لوگ جو مجھے دیکھ کر چونکے لیکن پیچھے نہیں ہٹے اور پھر میں نے اسے دیکھا وہ ویسا نہیں تھا جیسا میں نے اسے آخری بار دیکھا تھا خون میں لِپٹا اور درد سے بھرا ۔ اس کے جسم پر زخموں کے نشان تھے ۔ وہ پوری طرح زندہ تھا اس کی موجودگی نے میرے اندر کا شور خاموش کردیا تھا میرے پیر جیسے زمیں کے ساتھ بندھ گے میں بولنا چاہتا تھا معافی مانگنا چاہتا تھا کچھ بولنا چاہتا تھا لیکن لفظ میرا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ اس نے میری طرف دیکھا اس نظر میں وہی سکون تھا جسے میں نے صلیب پر دیکھا تھا ۔ لیکن اب اس میں زندگی تھی ڈر نہیں مجھے لگا وہ میرے ہر سوال ہر ڈر ہر گناہ کو پہلے سے جانتا ہے اس نے کچھ کہا بہت تھوڑے لفظوں میں اور وہ لفظ کسی حکم جیسے نہیں تھے بلکہ پُرسکون پیار بھرے تھے۔ اس نے مجھے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا نہ ہی میرے ہاتھوں کی طرف اشارہ کیا اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں وہی نہیں ہوں جو میں نے کیا ہے ۔ بلکہ وہ بھی ہوں جو بن سکتا ہوں میں نے اس رات کچھ نہیں کہا بس سنا اور دیکھا
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio