CharonUse these settings →
۔ جنگل بھی جیسے ان کے ساتھ رو رہا تھا۔ ہوا آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوتی گئی۔ اگلی رات لونا زیادہ کمزور لگ رہی تھی۔ اس کی روشنی مدھم ہو رہی تھی۔ بِلّو بھیا پریشان تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جنگل کے مرکز میں جا کر سچ معلوم کرے گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ جنگل کے مرکز میں ایک پرانا درخت تھا جو بالکل سوکھ چکا تھا۔ اس کے نیچے ایک آواز آئی… “تم اسے بچانا چاہتے ہو؟” بِلّو بھیا نے ہاں کہا۔ آواز نے کہا، “پھر تمہیں انتخاب کرنا ہوگا… یا تو اسے بھول جاؤ… یا اسے انسان بنا دو… مگر اگر وہ انسان بن گئی… تو تم اسے کبھی یاد نہیں رکھ سکو گے۔” بِلّو بھیا سکتے میں آ گیا۔ یہ سب اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ جب وہ واپس لونا کے پاس آیا تو اس نے صرف اتنا کہا، “اگر میں تمہیں انسان بنا دوں… تو میں تمہیں بھول جاؤں گا… مگر تم زندہ رہو گی۔” لونا نے اس کا ہاتھ پکڑا… پہلی بار جسمانی طور پر۔ اور آہستہ سے بولی، “کبھی کبھی محبت یاد رکھنے سے زیادہ… کسی کو زندہ رکھنے میں ہوتی ہے۔” اس رات جنگل میں ایک بہت تیز روشنی پھیلی۔ چاند بھی خاموش ہو گیا۔ ہوا رک گئی۔ اور پھر سب کچھ خاموش ہو گیا… صبح جب ہوئی… لونا وہاں نہیں تھی۔ بِلّو بھیا جنگل میں کھڑا تھا… مگر اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ بس ایک عجیب سا خالی پن تھا… جیسے اس کی زندگی سے کچھ بہت اہم چیز غائب ہو گئی ہو۔ اور دور کہیں جنگل کے اندر… ہلکی سی چاندنی میں ایک سایہ مسکرا رہا تھا…
0:00 / 0:00