CharonUse these settings →
یہ نظارہ آپ کو یقین دلا دے گا کہ جنت اگر زمین پر کہیں ہے تو شاید یہیں ہے۔ سیاح یہاں کیمپنگ کرتے ہیں، ٹریکنگ کرتے ہیں اور آسمان کے ستارے تکتے ہیں کیونکہ یہاں روشنی کی آلودگی نہیں ہوتی اور رات کو آکاش گنگا ننگی آنکھ سے نظر آتی ہے۔ اور ایک اور جگہ جو آپ کو ضرور جاننی چاہیے۔ یغنوب وادی۔ یہ ایک ایسی پوشیدہ وادی ہے جہاں آج بھی لوگ ایک ایسی قدیم زبان بولتے ہیں جو ہزاروں سال پرانی ہے۔ سوغدیائی زبان یہ وہ زبان ہے جو شاہراہ ریشم کے زمانے میں وسطی ایشیا میں بولی جاتی تھی۔ سوچیں آج کے دور میں بھی ایک ایسی وادی موجود ہے جو گویا وقت کی گرفت میں ہے۔ موسم کی بات کریں تو تاجکستان میں موسم بہار یعنی اپریل سے جون کا وقت سیاحت کے لیے سب سے بہترین ہے۔ اس وقت پہاڑ سرسبز ہوتے ہیں۔ پھول کھلتے ہیں اور گرمی بھی زیادہ نہیں ہوتی۔ موسم سرما میں خاص طور پر پامیر میں درجہ حرارت منفی تیس چالیس ڈگری تک گر جاتا ہے۔ اس وقت وہاں جانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دوشنبے میں موسم نسبتاً معتدل ہے۔ مگر سردیاں پھر بھی خاصی ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی بات کریں تو شہروں میں ٹیکسیاں اور مارشروتکا یعنی چھوٹی منی بسیں چلتی ہیں۔ یہاں یاکس ٹیکسی کی ایپ کام کرتی ہے جو ہمارے اوبر یا کریم جیسی ہے۔ تو آپ فون سے ٹیکسی بک کر سکتے ہیں۔ شہر سے باہر جانے کے لیے مشترکہ ٹیکسیاں ہوتی ہیں جو مختلف شہروں کے درمیان چلتی ہیں۔ دوستو، ایک آخری دلچسپ بات بتاتا ہوں۔ تاجکستان میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا گلیشیئر ہے فیچینکو گلیشیئر۔ یہ گلیشیئر ستر کلومیٹر لمبا ہے اور ابھی تک بہت حد تک انسانی نظروں سے پوشیدہ ہے۔ یہاں پہنچنا انتہائی مشکل ہے اور صرف پیشہ ور کوہ پیما ہی یہاں جا سکتے ہیں۔ یہ گلیشیئر پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جو پورے خطے کو زندہ رکھتا ہے۔
0:00 / 0:00