میں نے سِکوں کو ہاتھ میں لیا اور وہ مجھے جَلتے ہوئے لگے جیسے اُن میں اس خالی قبر کی ٹھنڈک اور اس اُجالے کی گرمی دونوں بند ہوں اس دن مَیں اس شہر میں گھومتا رہا لیکن ہر چہرہ مجھے اسی آدمی کی یاد دلا رہا ہو کچھ لوگ پھسپھسا رہے تھے کہ اس نے سچ مچ موت کو ہرا دیا ہے کچھ ڈر کے مارے چپ تھے اور کچھ غصے میں تھے کیونکہ اگر یہ سچ تھا تو ان کی مکمل دنیا ہل جانے والی تھی میں ایک رومی سپاہی ہوتے ہوئے بھی خود کو اجنبی محسوس کررہا تھا جیسے میں کسی اور کی زندگی جی رہا ہوں میرے اندر ہی اندر ایک لڑائی چل رہی تھی مَیں وفادار رہوں یا سچا روم نے مجھے سکھایا تھا کہ حکم سب سے اوپر ہوتا ہے لیکن اس خالی قبر نے مجھے سکھایا تھا کہ سچ حکم سے بھی افضل ہوسکتا ہے۔ رات کو جب میں تنہائی میں لیٹا تو نیند میری آنکھوں میں بلکل نہیں تھی میں ان چاندی کے سِکوں کو دیکھتا اور سوچتا رہا کہ کیا ان کو لے کر میں اپنے ہاتھ دھو سکتا ہوں ? وہ ہاتھ جنہوں نے کیلیں ٹھوکی تھی ۔ میں نے پہلے دعا کرنے کی کوشش کی لیکن الفاظ نہیں آئے میرے دیوتا پتھروں کے تھے اور پتھر اس رات لڑھک چکا تھا میرے اندر ایک بات تھی جو کہہ رہی تھی اگر وہ واقعی زندہ ہے تو کہانی یہی ختم نہیں ہوسکتی ۔ اور نہ ہی میرا جھوٹ مجھے سکون دے سکتا ہے اس دن کے بعد میں پہرے پر وہی رہا لیکن اندر سے بدل چکا تھا میں جانتا تھا آج نہیں تو کل مجھے اس سچ کا سامنا کرنا ہی پڑے گا جسے میں نے دیکھا ہے اور جسے اب جھوٹ سے ڈھکنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کہی نہ کہی اُس آدمی کی وہی خاموش نظر جب اس نے مجھے صلیب پر دیکھا تھا اب بھی میرے پیچھے چل رہی تھی اور وہ بھی مجھ سے یہی پوچھ رہی ہو کہ جب سچ سامنے ہے تو میں اس سے کب تک بھاگتا رہونگا
0:00 / 0:00