رات کا وقت تھا… اور جنگل بالکل خاموش لگ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر درخت نے اپنی

رات کا وقت تھا… اور جنگل بالکل خاموش لگ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر درخت نے اپنی سانس روک رکھی ہو اور کسی چیز کا انتظار کر رہا ہو۔ بِلّو بھیا آہستہ آہستہ جنگل کے راستے سے گزر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی لالٹین تھی، جس کی مدھم روشنی اندھیرے کو زیادہ دور تک نہیں جانے دے رہی تھی، بس جہاں اس کے قدم پڑتے وہاں تھوڑی سی حفاظت کا احساس ہوتا تھا۔ ہوا میں ایک عجیب سی ٹھنڈک تھی، لیکن یہ کوئی عام ٹھنڈک نہیں تھی… یہ ایسی ٹھنڈک تھی جو دل کے اندر تک اتر جاتی تھی، جیسے کوئی پرانی یاد واپس آ رہی ہو مگر سمجھ نہ آئے۔ بِلّو بھیا یہاں اکثر آتا تھا، لیکن آج کچھ مختلف تھا۔ جنگل کے پتے معمول کے مطابق نہیں ہل رہے تھے، بلکہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چھپ کر انہیں ہلا رہا ہو۔ دور کہیں سے ہلکی سی روشنی چمک رہی تھی، بالکل چاندنی جیسی، لیکن چاند آسمان پر تھا اور یہ روشنی جنگل کے اندر سے آ رہی تھی۔ بِلّو بھیا نے رک کر اس طرف دیکھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ڈر رہا ہے یا تجسس میں مبتلا ہے۔ اچانک ہوا رک گئی۔ جنگل بالکل ساکت ہو گیا۔ نہ پتوں کی آواز، نہ جانوروں کی۔ صرف ایک گہری خاموشی۔ اور اسی خاموشی کے درمیان بِلّو بھیا نے دیکھا کہ اس روشنی کے اندر سے کوئی چیز باہر آ رہی ہے۔ پہلے اسے لگا شاید کوئی عکس ہوگا، لیکن پھر وہ شکل واضح ہونے لگی۔ ایک لڑکی… لیکن عام لڑکی نہیں۔ اس کے پاؤں زمین کو چھو نہیں رہے تھے۔ اس کے بال ہوا میں لہرا رہے تھے مگر ہوا ہل نہیں رہی تھی۔ اس کی آنکھیں ہلکی نیلی روشنی سے چمک رہی تھیں۔ بِلّو بھیا ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ “تم… کون ہو؟” اس نے آہستہ سے پوچھا، لیکن جنگل نے اس کی آواز جیسے نگل لی۔ لڑکی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بس بِلّو بھیا کو
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio