EnceladusUse these settings →
ایک اور نظریہ یہ بھی ہے کہ امریکہ نے دباؤ ڈالا۔ امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان اتنی بڑی کامیابی حاصل کرے۔ پاکستان کو محدود رکھنا اس کی علاقائی پالیسی کا حصہ تھا۔ اور پھر — 6 ستمبر کو بھارت نے لاہور کی سرحد عبور کر لی۔ اب جنگ دو طرفہ ہو گئی۔ گرینڈ سلیم کی وہ رفتار — وہ موقع — ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ 17 ستمبر 1965 کو جنگ بندی ہو گئی۔ سرکاری طور پر کوئی جیتا نہ کوئی ہارا۔ لیکن غیر سرکاری طور پر؟ پاکستان نے ایک ایسا موقع کھو دیا جو شاید تاریخ میں دوبارہ نہ آتا۔ نظریہ 1 — اندرونی رقابت: کئی پاکستانی فوجی مؤرخین کا ماننا ہے کہ جنرل اختر حسین ملک ایوب خان کے لیے سیاسی طور پر خطرہ بنتے جا رہے تھے۔ ایک کامیاب جنرل جو جنگ جیت لے — وہ اگلا حکمران بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے ایوب نے یحییٰ کو بھیجا تاکہ کامیابی کا کریڈٹ تقسیم ہو اور ملک کا قد محدود رہے۔ نظریہ 2 — امریکی مداخلت: 1965 میں امریکہ دونوں ممالک کو اسلحہ فراہم کر رہا تھا — پاکستان اور بھارت دونوں کو۔ ایک فیصلہ کن پاکستانی فتح امریکہ کی توازنِ طاقت کی پالیسی کو ختم کر دیتی۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ واشنگٹن نے راولپنڈی کو خاموشی سے روک دیا۔ نظریہ 3 — لاجسٹک حقیقت: کچھ غیر جانبدار ماہرین کے مطابق، گرینڈ سلیم کی رفتار ویسے بھی برقرار نہ رہ پاتی۔ پاکستانی سپلائی لائنز لمبی تھیں، فضائی مدد محدود تھی، اور بھارت کا جوابی حملہ ناگزیر تھا۔ کمانڈر کی تبدیلی صرف ایک بہانہ تھی — اصل مسئلہ منصوبہ بندی میں تھا۔ لیکن یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے: اگر کمانڈر تبدیل نہ کیا جاتا — کیا لاہور آج محفوظ ہوتا؟ کیا کشمیر کا مسئلہ 1965 میں ہی حل ہو جاتا؟
0:00 / 0:00