CharonUse these settings →
دوشنبے ایک ایسا شہر ہے جو دیکھنے میں آپ کو حیران کر دے گا۔ جب آپ یہاں پہنچیں گے تو آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ یہ شہر اتنا صاف ستھرا اور منظم ہے۔ چوڑی سڑکیں، سرسبز درختوں کی قطاریں، خوبصورت فوارے اور شیشے کی بڑی بڑی عمارتیں۔ یہ وہ شہر ہے جس کی آپ کو توقع نہیں ہوگی۔ دوشنبے کا مرکزی علاقہ رودکی ایونیو ہے۔ یہ ایک لمبی اور خوبصورت سڑک ہے جو شہر کی جان ہے۔ یہاں آپ کو نیشنل میوزیم ملے گا جو تاجکستان کی پوری تاریخ بیان کرتا ہے۔ یہاں آپ کو سوویت دور کی یادگاریں بھی ملیں گی اور قدیم ساڑھے تین ہزار سال پرانی تہذیب کے نشانات بھی۔ اور اگر آپ کو فلیگ پول پسند ہے تو دوشنبے میں دنیا کے سب سے بلند قومی پرچم ڈنڈوں میں سے ایک ہے۔ پہلے یہ دنیا کا سب سے بلند ڈنڈا تھا جس کی اونچائی ایک سو پینسٹھ میٹر ہے۔ مگر بعد میں کچھ دوسرے ممالک نے اس سے اونچے ڈنڈے بنا لیے۔ پھر بھی یہ دیکھنے لائق ہے۔ دوشنبے سے تقریباً ایک گھنٹے کے سفر پر آپ کو ملے گا حصار قلعہ۔ یہ قدیم قلعہ ہے جو دو ہزار سات سو سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ اس کی فصیلیں آج بھی کھڑی ہیں اور یہاں بیٹھ کر آپ کو محسوس ہوگا کہ وقت تھم گیا ہے۔ دوشنبے کے بعد ہماری اگلی منزل ہے شمال میں واقع شہر خجند۔ یہ تاجکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور اسے شمال کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ خجند دریا سیر دریا کے کنارے بسا ہوا ہے اور یہ شہر ہزاروں سال پرانا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خود سکندر اعظم نے اس شہر کی بنیاد رکھی تھی اور اسے سکندریہ اسخاتہ یعنی آخری سکندریہ کا نام دیا تھا۔ خجند میں آپ کو ایک بہت خوبصورت بازار ملے گا جس کا نام پنجشنبہ بازار ہے۔ یہاں مصالحے، خشک میوے اور روایتی کپڑے بکتے ہیں۔ یہاں کی مارکیٹ میں گھومنا آپ کو ہمارے پاکستانی بازاروں کی یاد دلائے گا۔
0:00 / 0:00