DespinaUse these settings →
زویا نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر اپنا بستہ اٹھا لیا۔ جب وہ اسکول پہنچی، تو اس کی بہترین سہیلی ہیرا نے اسے دور سے ہی ہاتھ ہلایا۔ "زویا! دیکھو میں آج کیا لائی ہوں!" ہیرا نے جوش سے اپنی نئی کہانیوں کی کتاب دکھائی۔ زویا کو احساس ہوا کہ اگر وہ گھر پر رہتی تو وہ اپنی سہیلی اور ان نئی کہانیوں سے محروم رہ جاتی۔ کلاس میں استانی جی نے آج ستاروں اور سیاروں کے بارے میں بتایا۔ زویا کو یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ ہماری زمین کتنی بڑی ہے۔ اسے پڑھنا اور لکھنا بہت پسند آیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کا دماغ ایک ایسے جھولے کی طرح ہے جو اسے نئی نئی معلومات کی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔ اس کا دن بہت اچھا گزر رہا تھا۔ جب اسکول کی چھٹی ہوئی، تو امی اسے لینے آئیں اور ان کے ہاتھ میں نانی کے بنائے ہوئے میٹھے بسکٹ تھے۔ "ایک اچھی خبر ہے،" امی نے مسکرا کر کہا۔ "چونکہ تم نے آج اسکول میں بہت محنت کی ہے اور اپنی استانی جی کی ہر بات مانی ہے، اس لیے ہم آج شام کو نانی کے گھر جا رہے ہیں!" زویا خوشی سے اچھل پڑی۔ نانی کے گھر پہنچتے ہی زویا بھاگ کر باغ میں گئی۔ نانی وہاں پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔ زویا نے جا کر نانی کو زور سے گلے لگایا۔ "نانی! آج میں نے اسکول میں ستاروں کے بارے میں سیکھا! میں آپ کو جھولا جھولتے ہوئے سب کچھ بتاؤں گی،" زویا نے چہکتے ہوئے کہا۔ نانی اس کی بات سن کر بہت خوش ہوئیں۔
0:00 / 0:00