… جنگ ختم ہو جائے، دنیا بدل جائے… مگر ایک انسان کو اس کا پتہ ہی نہ چلے… اور وہ برسوں

… جنگ ختم ہو جائے، دنیا بدل جائے… مگر ایک انسان کو اس کا پتہ ہی نہ چلے… اور وہ برسوں تک جنگ لڑتا رہے۔ یہ کہانی ہے جاپان کے ایک فوجی Hiroo Onoda کی… سال 1944 میں، دوسری جنگ عظیم کے دوران، Onoda کو فلپائن کے ایک چھوٹے سے جزیرے Lubang پر بھیجا گیا۔ اسے ایک خاص حکم دیا گیا: "کبھی ہتھیار نہ ڈالنا… اور جب تک ہم خود نہ آئیں، لڑتے رہنا۔" پھر 1945 میں جنگ ختم ہو گئی۔ جاپان نے ہتھیار ڈال دیے۔ لیکن Onoda کو اس بات کا یقین ہی نہ آیا۔ جب جہازوں سے پمفلٹس گرائے گئے جن میں لکھا تھا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے… تو Onoda نے انہیں دشمن کا دھوکہ سمجھا۔ وہ اور اس کے ساتھی جنگل میں چھپ گئے… وہ گوریلا انداز میں زندہ رہے… درختوں کے نیچے سوئے… بارش کا پانی پیا… اور مقامی لوگوں سے چھپتے رہے۔ وقت گزرتا گیا… سال مہینوں میں… اور مہینے سالوں میں بدل گئے۔ ایک ایک کر کے اس کے ساتھی مر گئے… کوئی بیماری سے، کوئی مقابلے میں مارا گیا… لیکن Onoda اکیلا رہ گیا… اور پھر بھی وہ یہی سمجھتا رہا کہ جنگ ابھی جاری ہے۔ وہ کبھی کبھار گاؤں والوں پر حملہ بھی کرتا… کیونکہ اسے لگتا تھا کہ وہ دشمن ہیں۔ 29 سال گزر گئے… دنیا بدل گئی… نئی نسل آ گئی… پھر 1974 میں ایک جاپانی نوجوان، خاص طور پر Onoda کو ڈھونڈنے کے لیے اس جزیرے پر آیا۔ جب وہ Onoda سے ملا، تو اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے… لیکن Onoda نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا: "میں تب تک ہتھیار نہیں ڈالوں گا جب تک میرا کمانڈر خود مجھے حکم نہ دے۔" آخرکار جاپان سے اس کا پرانا کمانڈر لایا گیا… وہی شخص جس نے اسے 1944 میں حکم دیا تھا۔ جب کمانڈر نے آ کر اسے بتایا کہ جنگ واقعی ختم ہو چکی ہے… تب جا کر 29 سال بعد Onoda نے اپنا ہتھیار زمین پر رکھ دیا۔ وہ جنگل سے باہر نکلا…
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio