AchirdUse these settings →
حضرت لعل شہباز قلندرؒ، سندھ کے عظیم صوفی بزرگ اور روحانی پیشوا تھے۔ آپ کی پیدائش بارہویں صدی کے اوائل میں 1177ء میں مروَند (موجودہ افغانستان) میں ہوئی۔ آپ کے والد سید احمد کبیر ایک بزرگ اور معزز مخدوم تھے۔ آپ کا اصل نام سید محمد عثمان تھا۔ بچپن ہی سے آپ میں روحانیت کے آثار نمایاں تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا اور بیس سال کی عمر میں سلسلہ قلندریہ میں داخل ہوئے۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ نے برصغیر میں تصوف کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کے تین قریبی دوست بھی بڑے صوفی بزرگ تھے: حضرت بابا فرید گنج شکرؒ (پاکپتن) حضرت بہاؤالدین زکریاؒ (ملتان) حضرت جلال الدین بخاریؒ (اوچ شریف) یہ چاروں بزرگ "چار یارِ صوفیہ" کے نام سے مشہور ہیں۔ ایک مشہور واقعہ کے مطابق جب یہ بزرگ دریا پار کر رہے تھے تو حضرت قلندرؒ نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک پیالے کو کشتی بنایا۔ جب پیالہ ڈوبنے لگا تو معلوم ہوا کہ ایک ساتھی کے پاس دنیاوی لالچ (سونے کی اینٹ) موجود ہے۔ جیسے ہی اسے دریا میں پھینکا گیا، سب بحفاظت پار ہو گئے۔ حضرت قلندرؒ کو "لال" کا لقب اس وقت ملا جب آپ کو جلتے ہوئے تیل میں نہانے کا چیلنج دیا گیا، جسے آپ نے کامیابی سے پورا کیا اور آپ کا لباس سرخ ہو گیا۔ آپ 1263ء میں سندھ تشریف لائے اور آخرکار سیہون شریف میں قیام فرمایا، جہاں آپ نے ساری زندگی عبادت اور لوگوں کی رہنمائی میں گزاری۔ آپ کا وصال 1274ء میں ہوا۔ آپ کا مزار سیہون شریف میں واقع ہے، جو اپنی خوبصورت کاشی ٹائلز، آئینہ کاری اور سنہری دروازوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہر سال 18 شعبان کو آپ کا عرس مبارک منعقد ہوتا ہے، جس میں لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔
0:00 / 0:00