وہ درد میں تھا اس میں کوئی شک نہ تھا لیکن اس کے منہ سے جو لفظ نکلے انہوں نےکچھ پل کے

وہ درد میں تھا اس میں کوئی شک نہ تھا لیکن اس کے منہ سے جو لفظ نکلے انہوں نےکچھ پل کے لیے میرے ہاتھ سُن کردیے ۔ اُس نے اپنے باپ سے ہمارے لیے معافی مانگی۔ ہاں, ہمارے لیے جو اُسے مار رہے تھے۔ اور یہ بات میرے ضمیر کے خلاف تھی اور شاید میری سمجھ کے بھی خلاف تھی مَیں نے اُسی دن بھی اپنا کام ویسے ہی پورا کیا جیسے ہر دن کرتا تھا ۔ لیکن جب میں نے ہتھوڑا نیچے رکھا تو میں نے محسوس کیا پہلی بار ایسا ہوا ہے جسے میں سمجھ نہیں پا رہا ۔ اور شاید کبھی سمجھ بھی نہیں پاونگا ۔ اُس وقت مجھے یہ احساس نہیں تھا کہ جس شخص کی کلائی میں میَں نے کیل ٹھونکی ہے اس نے انجانے میں میرے اندر بھی کچھ ٹھونک دیا ہے۔ ایک سوال ایک بے چینی جو کچھ وقت کے بعد اور بھی گہری ہونے والی تھی ۔ جب صلیب کو سیدھا کھڑا کیا گیا تو اس کا جسم ہوا میں جھولنے لگا تو مُجھے لگا اب ویسا ہی ہوگا جیسا پہلے ہوتا آیا ہے ۔ کچھ گھنٹوں کی تکلیف ۔ کچھ آخری چیخیں۔ اور پھر ایک اور نام جو مٹی میں مل جائے گا میں صلیب کے نیچے کھڑا تھا بھالے کے سہارے نگرانی کی وہی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے جو مجھے سونپی گی تھی ۔ اوپر وہ آدمی لٹکا ہوا تھا جس کی سانسیں اب بھاری ہورہی تھی ۔ اور پاس ہی دو اور چور بھی تھے جو اپنی اپنی تکلیف میں تڑپ رہے تھے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا تو مجھے محسوس ہورہا تھا کہ نظارہ بلکل سولی جیسا نہیں ہے ۔ بھیڑ جو شور مچا رہی تھی آہستہ آہستہ دو حصوں میں بٹنے لگی ۔ ایک حصہ ابھی بھی ٹھٹھے مذاق اور بے عزت کرنے میں مگن تھا ۔ اور دوسرا حصہ ایسا تھا جو چپ چاپ دیکھ رہا تھا جیسے انہیں ڈر ہو اگر وہ زیادہ بولیں گے تو کچھ ٹوٹ جائے گا ۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio