اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری ذوکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے۔" رات کا آخری پہر ت

اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری ذوکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے۔" رات کا آخری پہر تھا۔ جب ذوکوئی صلاح الدین ایوبی کے خیمے سے نکلی۔ ناجی کے خیمے میں جانے کی بجائے وہ دوسری طرف چلی گئی۔ راستے میں ایک آدمی کھڑا تھا۔ جس کا جسم سر سے پاؤں تک ایک ہی لبادے میں ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے دھیمی سی آواز میں ذوکوئی کو پکارا۔ وہ اس آدمی کے پاس چلی گئی۔ وہ آدمی اسے ایک خیمے میں لے گیا۔ بہت دیر بعد وہ اس خیمے سے نکلی اور ناجی کے خیمے کا رخ کر لیا۔ ناجی اس وقت تک جاگ رہا تھا اور کئی بار باہر نکل کر صلاح الدین ایوبی کے خیمے کو دیکھ چکا تھا کہ ذوکوئی نے صلاح الدین ایوبی کو پھانس لیا ہے اور اسے آسمان کی بلندیوں سے گھسیٹ کرناجی کی ذہنیت کی پستیوں میں لے آئی ہے۔ " اب اس نے کہا۔ رات تو گزر گئی ہے۔ وہ ابھی تک نہیں آئی۔ " آئے گی بھی نہیں۔" اوروش نے کہا۔ " امیر مصر اسے اپنے ساتھ لے جائے گا۔ ایسے ہیرے کوئی شہزادہ واپس نہیں کیا کرتا.... تم نے اس پر بھی غور کیا ہے؟ ”نہیں“ ، ناجی نے کہا۔ میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ہی نہیں تھا ۔ ”کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ امیر مصر ذوکوئی کے ساتھ باقاعدہ شادی کرلے ؟ “ اور روش نے کہا۔ ” اس صورت میں یہ خطرہ ہے کہ لڑکی ہمارے کام کی نہیں رہے گی ۔ ”وہ ہے تو ہوشیار “ ناجی نے کہا۔ مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ؟ وہ رقاصہ کی بیٹی ہے اور تجربہ کار پیشہ ور ہے ۔ دھوکہ دے سکتی ہے ؟ وہ گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا کہ ذوکوئی اس کے خیمے میں داخل ہوئی۔ اس نے ہنس کر کہا۔ ” اپنے امیر کے جسم کا وزن کرو اور لاؤ اتنا سونا۔ آپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھانا ؟“ ” پہلے بتاؤ ہوا کیا ؟“ ناجی نے بے تابی سے پوچھا ۔ ” جو آپ چاہتے تھے ؟“ ذوکوئی نے جواب دیا۔ ” آپ کو یہ کس نے بتایا تھا کہ صلاح الدین ایوبی پتھر ہے ، فولاد ہے اور وہ مسلمانوں کے اللہ کا سایہ ہے ؟ “ اس نے زمین پر پاؤں کا ٹھڈ مار کر کہا۔ ” وہ اس ریت سے زیادہ بے بس ہے جسے ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے اُڑاتے پھرتے ہیں۔ ” تمہارے حسن کے جادو اور زبان کے طلسم نے اسے ریت بنایا ہے ۔ “ اور روش نے کہا۔ ” ورنہ یہ کمبخت چٹان تھا ۔ ” ہاں ، چٹان تھا ۔ “ ذوکوئی نے کہا ۔ ” اب ریتیلا ٹیلا بھی نہیں “ میرے متعلق کوئی بات ہوئی تھی ؟“ ناجی نے پوچھا۔ ” ہاں “ ذوکوئی نے جواب دیا۔ ” پوچھتا تھا ناجی کیسا آدمی ہے

More Urdu Voice Samples

gemini-2.5-pro-tts:Achird

سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا

سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا تھا۔ کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ با

gemini-2.5-pro-tts:Achird

سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا

سوچ سوچ کر اس نے جرات کی اور صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں چلا گیا۔ ایوبی اندر ٹہل رہا تھا۔ کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ با

gemini-2.5-pro-tts:Achird

اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری ذوکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے۔" رات کا آخری پہر ت

اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری ذوکوئی نے بت توڑ ڈالا ہے۔" رات کا آخری پہر تھا۔ جب ذوکوئی صلاح الدین ایوبی کے خ

gemini-2.5-pro-tts:Achird

صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی ک

صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی کے سپاہی جو شراب پی کر ہنگامہ بپا کر

gemini-2.5-pro-tts:Achird

صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی ک

صلاح الدین ایوبی کے متعلق کوئی نہیں بتا سکا کہ وہ گم سم بیٹھا کیا سوچ رہا تھا۔ ناجی کے سپاہی جو شراب پی کر ہنگامہ بپا کر

gemini-2.5-pro-tts:Achird

میں نے جواب دیا کہ مصر میں اگر کسی پر آپ کو اعتماد کرنا چاہئے تو وہ صرف ناجی ہے۔ اس ن

میں نے جواب دیا کہ مصر میں اگر کسی پر آپ کو اعتماد کرنا چاہئے تو وہ صرف ناجی ہے۔ اس نے پوچھا کہ تم کس طرح اُسے جانتی ہو۔

← Return to Studio