رومی سپاہی ۔ میرا نام تاریخ نے کبھی نہیں لکھا اور شاید میں اتنا اہم بھی نہیں ہوں کہ میرا نام لکھا جاتا۔ میں ان سپاہیوں میں سے ایک تھا جس نے رومی سلطنت کے حکم کو پورا کیا ۔ بنا یہ جانے میں ایک آدمی کو نہیں بلکہ ایک کہانی کو سولی چڑھانے جارہا ہوں میں ایک سپاہی تھا قانون کو فالو کرنے والا رحم کرنے کو کمزوری ماننے والا۔ بچپن سے یہی سکھایا گیا تھا کہ رحم لڑائی میں کام نہیں آتا اور سوال پوچھنے والا سپاہی زیادہ دیر زندہ نہیں رہتا۔ یروشلم میں تعیناتی میرے لیے نئی بات نہیں تھی یہ شہر ہر وقت بے سکون اور بے چین رہتا تھا مذہبی ضدوں اور دشمنیوں کے بیجوں سے بھرا ہوا۔۔۔۔ ۔۔تہواروں کے دنوں میں تو حالات اور بھی خراب ہوجاتے تھے ۔ کیونکہ بھیڑ میں امید بھی ہوتی ہے اور غصہ بھی اور رومیوں کو دونوں سے خوف آتا ہے ۔ اس صبح ہمیں حکم ملا تھا کہ تین سزاواروں کو سولی چڑھانا ہے ۔ میرے لیے یہ خبر اتنی ہی عام تھی کہ جتنا سورج کا اگنا میں نے اپنا لباس پہنا ہتھوڑا اور کیل اٹھائیں اور باقی دوسرے سپاہیوں سمیت قلعے سے باہر نکلا ۔ راستے میں لوگ جمع تھے کچھ غصے میں کچھ رو رہے تھے اور کچھ ایسے جن کی آنکھوں میں بس تماشے کی بھوک تھی دو قیدی ایسے تھے جنہیں میں پہلے بھی دیکھ چکا تھا چور۔۔۔ لوٹ مار کرنے والے۔۔ اپنے انجام سے واقف ۔ تیسرا الگ تھا لوگ اسے الگ الگ ناموں سے پکار رہے تھے یشوع ناصری خود کو راجا کہنے والا ہر نام کے ساتھ بھیڑ کی آواز بدل جاتی تھی کبھی طعنے میں کبھی نفرت میں کبھی خوف میں ۔ میں نے اسے دھیان سے دیکھا کوڑوں کے نشان بہت گہرے تھے جیسے سزا دینے والے نے جسم توڑنے کی نہیں بلکہ روح توڑنے کی کوشش کی ہو
0:00 / 0:00