جب میلو شیر کے غار کے پاس پہنچا تو شیر دھوپ میں آرام کر رہا تھا۔ اس کے گرد ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں۔ میلو نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ اے جنگل کے بادشاہ میں آپ کے پاس ایک اہم خبر لے کر آیا ہوں۔ شیر نے آنکھ کھولی اور غرّا کر کہا کہ بولو ورنہ میں تمہیں ابھی کھا جاؤں گا۔ میلو نے کہا کہ حضور جنگل کے دوسرے حصے میں ایک اور شیر آ گیا ہے جو خود کو اصلی بادشاہ کہتا ہے اور کہتا ہے کہ زردان کمزور ہو گیا ہے۔ یہ سن کر شیر غصے میں آ گیا۔ اس نے کہا کہ وہ کون ہے؟ میلو نے کہا کہ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو ابھی میرے ساتھ آنا ہوگا۔ شیر نے غرّاتے ہوئے کہا کہ اگر تم جھوٹ بول رہے ہو تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ میلو نے کہا کہ میں آپ کو سیدھا وہاں لے چلتا ہوں۔ شیر فوراً اٹھا اور میلو کے ساتھ چل پڑا۔ میلو جان بوجھ کر شیر کو جنگل کے ایک پرانے کنویں کی طرف لے جا رہا تھا جو بہت گہرا تھا۔ راستے میں شیر بار بار غصے سے سوال کرتا رہا لیکن میلو ہر بار بات کو گھما دیتا۔ آخرکار وہ دونوں کنویں کے پاس پہنچ گئے۔ کنویں کے پاس پہنچ کر میلو نے کہا کہ وہ دیکھیں وہ سامنے ہے دوسرا شیر۔ شیر نے جھک کر کنویں میں دیکھا تو اسے اپنا ہی عکس پانی میں نظر آیا۔ پانی کی لہروں کی وجہ سے وہ سمجھا کہ واقعی کوئی دوسرا شیر ہے۔ وہ زور سے غرّایا تو گونج واپس آئی۔ شیر مزید غصے میں آ گیا اور اس نے سوچا کہ وہ اس دوسرے شیر کو ختم کر دے گا۔ جیسے ہی وہ کنویں میں کودنے کے لیے آگے بڑھا، میلو فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ شیر نے غصے میں چھلانگ لگا دی اور سیدھا کنویں میں جا گرا۔ پانی بہت گہرا تھا اور وہ باہر نہ نکل سکا۔ جنگل کے تمام جانوروں نے جب یہ خبر سنی تو وہ حیران بھی ہوئے اور خوش بھی۔ مگر میلو نے کہا کہ ہمیں خوشی منانے کے بجائے اب انصاف اور امن
0:00 / 0:00