DespinaUse these settings →
آج زویا کمرے میں آئی، تو اس کا دل اسکول جانے کو بالکل نہیں چاہ رہا تھا۔ اس نے اپنی پیاری نیلی آنکھیں بند کیں اور ایک لمبی آہ بھری۔ اس کے کمرے کے کونے میں اس کا گلابی بستہ اور پالش کیے ہوئے کالے جوتے رکھے تھے، جو اسے اسکول کی یاد دلا رہے تھے۔ لیکن زویا کے ذہن میں صرف ایک ہی بات چل رہی تھی: نانی کے گھر کا وہ بڑا سا لکڑی کا جھولا. امی! کیا میں آج اسکول کے بجائے نانی کے گھر جا سکتی ہوں؟" زویا نے کچن میں جا کر اپنی امی سے پوچھا۔ امی ناشتہ تیار کر رہی تھیں، انہوں نے مڑ کر زویا کو دیکھا اور مسکرائیں۔ "نانی کے گھر؟ لیکن آج تو پیر کا دن ہے، زویا۔ آج تو کتابوں سے دوستی کرنے اور نئی باتیں سیکھنے کا دن ہے،" امی نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ زویا نے آنکھیں بند کیں اور تصور کیا کہ وہ نانی کے ہرے بھرے باغ میں ہے۔ وہاں ایک بڑا سا آم کا درخت ہے جس پر نانی نے اس کے لیے ایک مضبوط رسی والا جھولا ڈالا ہوا ہے۔ وہ ہوا میں اونچا اڑ رہی ہے اور پرندے اس کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ جھولے پر بیٹھ کر بادلوں کو چھو سکتی ہے۔ امی نے زویا کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا، "زویا، دیکھو، اگر ہر کوئی صرف اپنی پسند کے کام کرے، تو مالی پھولوں کو پانی دینا بھول جائے گا اور ڈاکٹر مریضوں کا علاج نہیں کر پائے گا۔ اسکول وہ جگہ ہے جہاں تم یہ سیکھتی ہو کہ دنیا کیسے چلتی ہے۔ نانی کے گھر جانے کا مزہ تبھی آتا ہے جب آپ اپنا سارا کام وقت پر ختم کر لیں۔
0:00 / 0:00