ZephyrUse these settings →
پھر ایک دن… پڑوسی سلطنت کا نوجوان اور بہادر شہزادہ، شہزادہ ذیشان، شکار کرتے ہوئے راستہ بھٹک گیا۔ جنگلوں میں گھومتے گھومتے وہ اُس سَترنگی محل تک پہنچ گیا۔ جیسے ہی اُس نے محل دیکھا… وہ حیران رہ گیا۔ "اتنا خوبصورت محل… میں نے آج تک نہیں دیکھا…" اُس نے سپاہیوں سے درخواست کی کہ وہ بادشاہ سے ملنا چاہتا ہے اور کچھ دن یہاں قیام کرنا چاہتا ہے۔ بادشاہ نے اُسے مہمان کے طور پر محل میں ٹھہرایا۔ اور پھر… کچھ ہی دیر میں شہزادی مسکان نے اِس انجان شہزادے کے بارے میں سن کر اُس سے ملنے آنے کا فیصلہ کیا۔ شہزادہ ذیشان نے جب پہلی بار شہزادی مسکان کو دیکھا… تو وہ بس اُسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ سرخ رنگ کے خوبصورت لباس میں… سَترنگے بالوں کے ساتھ… وہ کسی جادوئی خواب جیسی لگ رہی تھی۔ اُسی لمحے شہزادہ ذیشان اُس کا دیوانہ ہو گیا۔ کچھ دنوں میں دونوں کی گہری دوستی ہو گئی۔ وہ اکثر محل کے باغوں میں ساتھ گھومتے… ہنستے… باتیں کرتے اور ایک دوسرے سے وقت گزارتے۔ ایک شام… دونوں باغ میں ٹہل رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور چاروں طرف خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ شہزادی نے مسکراتے ہوئے پوچھا: "آپ کو کون سا پھول سب سے زیادہ پسند ہے؟ میں ابھی آپ کے لیے حاضر کر دوں گی۔" شہزادے نے ہنستے ہوئے مذاق میں کہا: "اگر واقعی جادو ہے تو مجھے سات رنگوں والا گلاب چاہیے۔"
0:00 / 0:00