نورپور ایک خوبصورت اور رنگین گاؤں تھا، جہاں ہر طرف خوشی اور ہنسی تھی۔ بچے کھیلتے تھے، پرندے گاتے تھے، اور لوگ سکون سے اپنی زندگی گزارتے تھے۔ لیکن ایک دن، سب کچھ بدل گیا۔ شام کے وقت اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔ ہوا تیز ہو گئی، اور گاؤں میں عجیب سا خوف پھیلنے لگا۔ گاؤں کے کنارے، ایک پرانی جھونپڑی کے سامنے حمدان حسین کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب چمک تھی، اور اس کے ہاتھوں سے کالا جادو نکل رہا تھا۔ وہ زور سے ہنسا اور بولا: "ہاہاہا! اب یہ گاؤں میرا ہوگا! اندھیرا ہر طرف پھیل جائے گا!" جیسے ہی اس نے جادو کیا، آسمان اور بھی سیاہ ہو گیا۔ درخت مرجھانے لگے، اور گاؤں اندھیرے میں ڈوبنے لگا۔ اسی لمحے، آسمان سے ایک تیز روشنی نیچے اتری۔ وہ ایک خوبصورت پری تھی — آنجش۔ آنجش زمین پر اتری، اور اس کے ساتھ ہی روشنی پھیل گئی۔ اس نے حمدان کی طرف دیکھا اور مضبوط آواز میں کہا: "میں تمہیں اس گاؤں کو نقصان نہیں پہنچانے دوں گی!" حمدان نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا: "تم ایک پری ہو… اور میں کالا جادوگر! تم مجھے نہیں روک سکتی!" اگلے ہی لمحے، آنجش نے اپنے ہاتھ اٹھائے، اور اس کے ارد گرد روشنی پھیلنے لگی۔ درخت دوبارہ ہرے ہونے لگے، پھول کھلنے لگے، اور گاؤں میں امید واپس آنے لگی۔ وہ بولی: "جب تک روشنی ہے، یہ گاؤں محفوظ ہے!" یہ دیکھ کر حمدان کو شدید غصہ آ گیا۔ اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھایا اور ایک زبردست کالا جادو چھوڑ دیا۔ اچانک پورا گاؤں اندھیرے میں ڈوب گیا۔ آسمان کالا ہو گیا، اور زمین کانپنے لگی۔ حمدان چیخ کر بولا: "اندھیرا سب کچھ ختم کر دے گا!" آنجش نے ہمت نہ ہاری۔ وہ آسمان کی طرف اڑی اور بولی: "میں روشنی واپس لاؤں گی!" پھر آسمان میں زبردست جنگ شروع ہو گئی۔ روشنی اور اندھیرا ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے، چمک
0:00 / 0:00