وہ صبح تھی جب لاہور ایئرپورٹ سے صرف 14 کلومیٹر کی دوری پر پاکستانی ٹینک رک گئے

وہ صبح تھی جب لاہور ایئرپورٹ سے صرف 14 کلومیٹر کی دوری پر پاکستانی ٹینک رک گئے... اور کوئی نہیں جانتا کیوں۔ اگر وہ ٹینک نہ رکتے — آج لاہور کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ یہ وہ راز ہے جو پاکستان کی فوجی تاریخ کی سب سے بڑی ان سلجھی پہیلی بن چکا ہے۔ پاکستان کے راز میں آپ کا استقبال ہے۔ آج ہم بات کریں گے 1965 کی اس جنگ کی — جسے ہم اسکول میں "پاک-بھارت جنگ" کے نام سے پڑھتے ہیں۔ لیکن جو حصہ ہمیں کبھی نہیں پڑھایا گیا... وہ تھا آپریشن گرینڈ سلیم۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں پاکستانی فوج اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی کہ دشمن کے پاؤں تلے زمین کھسک رہی تھی۔ لاہور ایک ہی دن میں کٹ آف ہو سکتا تھا۔ بھارت کی کمر ٹوٹ سکتی تھی۔ لیکن پھر... کچھ ہوا، اور سب کچھ رک گیا۔ آج ہم اسی "کچھ" کو تلاش کریں گے۔ سال 1965 تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ ایک کھلے زخم کی طرح تھا۔ پاکستان کے صدر ایوب خان کا ماننا تھا کہ اگر اب نہیں لڑے تو کبھی نہیں لڑیں گے۔ اسی لیے آپریشن جبرالٹر شروع کیا گیا — کشمیر میں پاکستانی مجاہدین بھیجے گئے تاکہ اندر سے بغاوت شروع ہو۔ لیکن یہ منصوبہ الٹا پڑ گیا۔ کشمیر کی عوام نے ساتھ نہیں دیا، اور بھارت کو اس کا علم ہو گیا۔ پھر پاکستان نے ایک اور چال چلی — آپریشن گرینڈ سلیم۔ یہ آپریشن جنرل اختر حسین ملک کا شاہکار تھا۔ ان کا ہدف تھا اکھنور — وہ چھوٹا سا مگر اہم شہر جہاں سے بھارت کا کشمیر سے رابطہ قائم تھا۔ ایک پل، ایک سڑک، ایک لائف لائن۔ اگر اکھنور گر جاتا... بھارت کا کشمیر سے رابطہ منقطع ہو جاتا۔ اور پھر لاہور کے قریب بھارتی افواج سر اٹھانے کے قابل نہ رہتیں۔ یہ منصوبہ مکمل تھا، اور 1 ستمبر 1965 کو — یہ کامیابی سے جاری تھا۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio