وہ دن میں ایک اچھی بیوی تھی مگر رات میں ایک اجنبی بن جاتی۔ بالآخر ایک رات میں نے اس س

وہ دن میں ایک اچھی بیوی تھی مگر رات میں ایک اجنبی بن جاتی۔ بالآخر ایک رات میں نے اس سے سختی سے پوچھا کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ اس نے رو کر کہا کہ اسے وقت چاہیے اور اس کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ میں بے بسی اور غصے کے درمیان جھول رہا تھا۔ ایک طرف محبت تھی اور دوسری طرف مسلسل انکار۔ پھر ایک دن مجھے شک ہوا کہ کہیں وہ مجھ سے کچھ چھپا تو نہیں رہی۔ میں نے اس کی باتیں سننے کی کوشش کی تو حقیقت سامنے آ گئی۔ وہ اپنی والدہ سے فون پر بات کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اس نے مجھے ابھی تک اپنے قریب نہیں آنے دیا اور وہ مجھے تڑپانا چاہتی ہے تاکہ میں اس کی قدر کروں۔ یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی کھیل کا حصہ ہوں۔ میں نے غصے میں اس سے سختی سے بات کی۔ وہ رو پڑی اور معافی مانگنے لگی کہ اس کی ماں نے اسے غلط مشورے دیے تھے۔ وہ کہنے لگی کہ اسے ڈرایا گیا تھا کہ اگر شروع میں وہ نرم پڑ گئی تو میں اس کی قدر نہیں کروں گا۔ میں کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر میں نے اسے کہا کہ شادی میں تیسرے شخص کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، چاہے وہ ماں ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے سچے دل سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کسی کے بہکاوے میں نہیں آئے گی۔ وقت کے ساتھ اس کا رویہ بدل گیا۔ اس کے اندر کا خوف ختم ہو گیا اور ہمارا رشتہ آہستہ آہستہ مضبوط ہونے لگا۔ ہم دونوں نے سیکھ لیا کہ محبت کھیل نہیں ہوتی اور اعتماد ہی کسی بھی رشتے کی اصل بنیاد ہے۔ اور یوں ہماری زندگی کی تلخی ختم ہو گئی، اور ہم ایک خوشحال زندگی کی طرف بڑھ گئے۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio