CharonUse these settings →
اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ قلعے کے اندر آج بھی لوگ رہتے ہیں۔ گھر ہیں، دکانیں ہیں، ایک چھوٹا سا گاؤں ہے قلعے کی دیواروں کے اندر۔ یہ بات شاید دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی۔ اور قلعے کے اندر ہے انوفری میوزیم جہاں پندرہویں صدی کی بازنطینی مذہبی تصویریں رکھی ہیں۔ بیرات سے آگے نکلیں تو البانوی ریویرا شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی سمندر کا کنارہ۔ درمی، ہیمارہ، کسامل یہ ساحلی قصبے اتنے خوبصورت ہیں کہ یقین نہیں آتا یہ یورپ کے کم مشہور گوشوں میں ہیں۔ کسامل کی سمندری رنگت اتنی شفاف اور نیلی ہے کہ ہر سال یورپی سیاح وہاں خاص طور پر جاتے ہیں۔ اور یہ کریٹ یا مالٹا سے بہت سستا ہے۔ اور اگر ہم جنوب کی طرف اور آگے جائیں تو پہنچتے ہیں جیروکاسترہ جسے پتھر کا شہر کہتے ہیں۔ یہ ایک اور یونیسکو ورثہ ہے۔ یہاں پہاڑ سے کاٹے ہوئے پتھر کے گھر ہیں جن کی چھتیں بھی پتھر کی ہیں۔ سارا شہر ہی پتھر کا لگتا ہے۔ جیروکاسترہ قلعے میں آپ کو کچھ ایسا ملے گا جو کہیں اور نہیں دیکھا۔ ایک امریکی جاسوس طیارہ جو سرد جنگ کے زمانے میں البانیہ نے گرایا تھا۔ جی ہاں، وہ طیارہ آج بھی وہاں ہے۔ بالکل ویسے کا ویسا۔ اب ذرا شمال کی طرف چلتے ہیں جہاں البانیہ کی اصل قدرتی خوبصورتی چھپی ہوئی ہے۔ شکودرہ البانیہ کا ایک اہم شمالی شہر ہے اور یہاں ہے بلقان کی سب سے بڑی جھیل شکودرہ جھیل۔ پہاڑوں اور سبزے میں گھری یہ جھیل سکون اور خاموشی کا گھر ہے اور شمالی البانیہ کا تاج ہے والبونا ویلی جسے البانین ایلپس بھی کہتے ہیں۔ اگر آپ نے سوئٹزرلینڈ یا آسٹریا کے نظارے دیکھے ہیں تو والبونا کی برف پوش چوٹیاں، نیلی ندیاں اور سرسبز وادیاں انہیں ٹکر دیتی ہیں اور قیمت دسویں حصے سے بھی کم۔ یہاں ٹریکنگ کے لیے آنے والے سیاحوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
0:00 / 0:00