عصرِ حاضر اس لحاظ سے بہت سہل ہے کہ ہم نے بحیثیتِ مجموعی’’دارالسّزا‘‘ کو عُمدہ طریقے س

عصرِ حاضر اس لحاظ سے بہت سہل ہے کہ ہم نے بحیثیتِ مجموعی’’دارالسّزا‘‘ کو عُمدہ طریقے سے فراموش کردیا ہے۔ سو، اب عملِ صالح پر کون توجّہ دے اور کیوں کردے؟ ہم پہلے ہی یہ طے کر بیٹھے ہیں کہ اب ہمیں صرف لُطف و مسرّت ہی کے پیچھے بھاگنا ہے۔ اس ضمن میں پہلے ہم پیسے اور دیگر تعیّشاتِ زندگی کا سہارا لیتے تھے، جب کہ اب اس صف میں انٹرنیٹ اور موبائل فون بھی شامل ہوچُکا ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ راوی چین ہی چین لکھے، لیکن کیا یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم واقعی پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں؟ ؎ لطف مَرنے میں ہے باقی، نہ مزہ جینے میں …کچھ مزہ ہے، تو یہی خونِ جگر پینے میں۔ آج ہم اپنی بداعمالیوں کے تاریک گڑھوں میں اتنا دھنس چُکے ہیں کہ ان سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ سرِفہرست گڑھا تو کام چوری، سُستی و کاہلی اور بد دیانتی کا ہے۔ ہم محنت سےجی چُراتے ہیں اور کوشش کیے بغیر ہی راتوں رات امیر بن کر اپنی امارت کا رُعب جما کر ہر بےبس و بےکس کو ِت کردینا چاہتے ہیں۔ کسی کو آگے نہ بڑھنے دینےکی کوشش میں اس کی ٹانگیں کھینچ لیتے ہیں۔ ایک اور گہرا گڑھا اخلاقیات کے جنازے کا ہے، جس میں چھوٹی چھوٹی نیکیاں بھی ناپید نظر آئیں۔ مثال کے طور پر رکشا ڈرائیور سڑک کے وسط میں رکشا روک کر موبائل فون سے شغف فرمانے لگتا ہے اور اس کے اردگرد موجود گاڑیوں کی قطاریں ہارن پر ہارن بجائے چلی جاتی ہیں، مگر اُسے چنداں فکر نہیں ہوتی۔ اِسی طرح اِن دنوں ایک یہ منفی رجحان بھی زور پکڑ رہا ہے کہ لوگ دورانِ سفر سڑک کے عین وسط میں کھڑے ہو کر نہ صرف ایک دوسرے کا حال احوال لینا شروع کردیتے ہیں بلکہ پورے خاندان کے حالات بھی گوش گزار کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی شخص اُنہیں راستے سے ہٹ کر ایک طرف کھڑے ہونے کا کہہ دے، تو فوراً طیش میں آکر پوچھتے ہیں کہ ’’کیا یہ تمہارے باپ کی سڑک ہے؟‘‘ اور پھر لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio