IapetusUse these settings →
ایک سرسبز پہاڑی گاؤں میں ایک پُر اعتماد نوجوان رہتا تھا—اس کا نام کامران تھا۔ وہ غریب نہیں تا، مگر اس کے خواب گاؤں کی سوچ سے کہیں بڑے تھے۔ اس کی باتیں لوگوں کو عجیب لگتیں، اس کا انداز مختلف تھا، اسی لیے لوگ اس پر ہنستے تھے۔ کوئی اس کی عزت نہیں کرتا تا، کوئی اس کی باتوں پر یقین نہیں رکھتا تا۔ گھر میں بھی اکثر اختلافات ہوتے، اس کے اپنے لوگ بھی اسے سمجھ نہیں پاتے تھے۔ کامران اکثر شام کے وقت پہاڑی پر کھڑا ہو کر اور خود سے کہتا، “میری دنیا اس گاؤں سے بڑی ہے۔” لوگ گزرتے ہوئے مسکراتے، کچھ طنز کرتے، مگر وہ خاموش رہتا—پُراعتماد، مَگر تَنہا۔ ایک دن گاؤں میں ایک نیک، بزرگ آدمی آیا۔ اس نے کامران کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی۔ اس نے کہا، “تمہاری سوچ تمہیں یہاں نہیں رہنے دے گی۔” اس نے کچھ رقم بطور ادھار دی اور دعا دی—“جاؤ، اپنی راہ خود بناؤ۔ کامران شہر گیا، ایک ٹریول ایجنسی سے رابطہ کیا، اور محنت کے بعد امریکہ کا ورک ویزا حاصل کر لیا۔ جب وہ گاؤں چھوڑ رہا تا، اس کے قدم مضبوط تھے، مَگر دل میں ہلکی سی اداسی بھی تھی۔ کچھ لوگ اب بھی ہنس رہے تھے، مگر اس بار اسے فرق نہیں پڑا۔ چمکتی روشنیاں، مصروف لوگ، اور ایک نیا سفر۔ کامران نے جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھا اور دل میں کہا، “یہ صرف آغاز ہے۔ وہاں پہنچ کر حقیقت سخت تھی۔ دن بھر کنسٹرکشن سائٹ پر کام، رات کو اضافی شفٹیں۔ پَسینہ، تَھکن، اور تنہائی—مَگر اس کا اعتماد کبھی نہیں ٹوٹا۔
0:00 / 0:00