مجھے لگا وہ مجھ سے نفرت کرے گا ۔ یا کم از کم حقارت سے منہ پھیر لے گا ۔ لیکن اس نے ایس

مجھے لگا وہ مجھ سے نفرت کرے گا ۔ یا کم از کم حقارت سے منہ پھیر لے گا ۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا اس نے بس ایسا کہا کہ وہ زندہ ہے اور اس نے ہمیں معاف کیا ہے ۔ ان لفظوں نے مجھے اندر تک ہلا دیا کیونکہ معافی وہی مانگتا ہے جسے دینے کو بہت کچھ ہو اس رات میں بہت دیر تک جاگتا رہا میں ان چہروں کو یاد کرتا رہا جنہیں میں نے لڑائی میں گِرتے دیکھا ہو اور ان لوگوں کے بارے جنہیں میں نے حکم ہونے کی وجہ سے کچلا تھا۔ اور اس آدمی کے بارے میں جسے میں نے کیلیں ٹھوکی تھیں۔ اگر وہ سچ میں زندہ تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ موت ہار گئی ہے اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ میرے جیسے لوگوں کے لیے بھی کوئی راستہ بچا ہوا ہے ۔ یہ خیال ڈراونا بھی تھا اور راحت دینے والا بھی کیونکہ اب میرے گناہ صرف بوجھ نہیں تھے اب وہ سوال بن چکے تھے ۔ میں نے پہلی بار یہ سمجھا کہ روم کی تلواریں بس جسم کو جیت سکتی ہیں لیکن اس انسان کی کہانی دِلوں کو جیت رہی تھی ۔۔اور دل میں نے اب تک سیکھ لیا تھا کسی قلعے سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اس وقت مجھے احساس ہونے لگا کہ میں جس سچائی کو دبانے کی کوشش کررہا ہوں وہ میرے اندر ہی جگہ بنا چکی ہے اب سوال یہ نہیں تھا وہ زندہ ہے کہ نہیں سوال یہ تھا جب سچ میرے سامنے کھڑا ہے تو میں کب تک اس سے منہ موڑ کر رومی سپاہی بنا رہونگا ۔ میں جتنا بھاگنے کی کوشش کرتا سچائی اتنا ہی پاس آتی جاتی شہر میں اس کے نام کی گونج اب سرگوشی نہیں رہی تھی وہ گھروں کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھی جیسے یروشلم خود اسے بھول نہ پا رہا ہو میں پہرے پر تھا لیکن میرا دماغ کہی اور بھٹک رہا تھا ہر بار جب کوئی گھایل بیمار یا ٹوٹا ہوا شخص دِکھتا تو میرے اندر ایک سوال اٹھتا
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio