ایک شام مَیں پہرے سے لوٹ رہا تھا تو میں نے چند یہودیوں کو ایک گھر جمع ہوتے ہوئے دیکھا

ایک شام مَیں پہرے سے لوٹ رہا تھا تو میں نے چند یہودیوں کو ایک گھر جمع ہوتے ہوئے دیکھا ۔ دروازہ بند تھا لیکن اندر سے آہستہ آہستہ آوازیں آرہی تھیں۔ خوف اور امید کا عجیب سے ملاپ تھا۔ مجھے حُکم تھا کہ ایسے واقعات پر نظر رکھوں ۔ اِس لیے میں پاس ہی رک گیا ۔ تبھی میں نے اس کا نام سُنا یہ وہی نام تھا جو مَیں نے صلیب پر لکھا دیکھا تھا اور مَیں اندر سے کچھ کانپ گیا ۔ وہ لوگ کِسی مرے ہوئے انسان کی بات نہیں کررہے تھے وہ ایسا ظاہر کررہے تھے جیسے کوئی ابھی بھی ان سے مل کر گیا ہو ۔ اس وقت میرے اندر کا سپاہی اور وہ آدمی جس نے خالی قبر دیکھی تھی آمنے سامنے کھڑے ہوگئے ۔ کچھ دِنوں بعد ایک ایسا آدمی میرے سامنے آیا جس نے میرے سارے شک شبہات کو اور گہرا کردیا۔ وہ ان میں سے ایک تھا جسے میں نے صولی پر کھڑے دیکھا تھا ڈرا ہوا ٹوٹا ہوا ۔ لیکن اب اس کی آنکھوں میں ڈر نہیں تھا ایک عجیب سے دلیری تھی جیسے کسی نے اس کے اندر ایک عجیب سا سچ رکھ دیا ہو جسے چھینا نہیں جا سکتا ۔ اُس نے مجھے پہچانا اس نے میرے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور پھر میری آنکھوں میں دیکھا مجھے لگا وہ مجھ سے نفرت کرے گا ۔ یا کم از کم حقارت سے منہ پھیر لے گا ۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کِیا ۔ اُس نے ایسا بس کہا کہ وہ زندہ ہے اور اس نے ہمیں معاف کیا ہے ۔ ان لفظوں نے مجھے اندر تک ہلا دیا کیونکہ معافی وہی مانگتا ہے جسے دینے کو بہت کچھ ہو اُس رات میں بہت دیر تک جاگتا رہا میں ان چہروں کو یاد کرتا رہا جنہیں میں نے لڑائی میں گِرتے دیکھا ہو ۔ اور ان لوگوں کے بارے جنہیں میں نے حکم ہونے کی وجہ سے کُچلا تھا۔ اور اس آدمی کے بارے میں جسے میں نے کیلیں ٹھوکی تھیں۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio