ججوں پاکستان کے عوام اور عالمی رائے عامہ کو بھی گمراہ کرنا مقصود تھا۔ بھٹو مرحوم نے مارشل لاء حکومت کی طرف سے شائع، جاری اور تقسیم کئے جانے والے دو وائٹ پیپرز کا جواب اس کتاب میں دیا ہے۔ اس کے بعد تین جلدیں مزید شائع ہوئیں۔ جن کا جواب بھٹو مرحوم نہ دے سکے کیونکہ ان کی زندگی کی ڈوری پھانسی کے پھندے کے ذریعے کاٹ دی گئی تھی۔ بھٹو مرحوم نے مارشل لاء حکومت کی طرف سے مرتب کردہ ان وائٹ پیپرز کی ان دو جلدوں کا جواب سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے لئے لکھا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس اہم دستاویز کو کوئی اہمیت نہ دی۔ ایسا کیوں ہوا یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس کے مضمرات بھی اب ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ بہرحال مارشل لاء حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آگئی کہ بھٹو مرحوم کے اس جواب کو دبایا اور نیست و نابود کر دیا جائے اپنی جگہ یہ طرز عمل کتنا گھناؤنا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ قدم قدم پر اسلام کا نام لینے والے اور قرآنی آیات پڑھنے والے جنرل ضیا الحق کو یہ سیدھا سادہ انسانی اخلاقی، مذہبی اور قانونی اصول یاد نہ رہا کہ ملزم کو جواب دینے کا ہر طرح کا حق حاصل ہوتا ہے اور اسے اس حق سے محروم کرنے والا دین و دنیا دونوں لحاظ سے خود بہت بڑا مجرم اور گناہگار ہوتا ہے۔
0:00 / 0:00