دن گزرتے گے لیکن وہ رات میرے اندر جمی رہی جیسے کوئی آگ جو باہر سے دکھائی نہیں دیتی پر

دن گزرتے گے لیکن وہ رات میرے اندر جمی رہی جیسے کوئی آگ جو باہر سے دکھائی نہیں دیتی پر اندر سب کچھ بدل دیتی ہے میں اپنے کام پر لوٹ آیا تھا شہر میں افواہیں پھیلنے لگی تھی اور یہ افواہیں ایسی نہیں تھی جنہیں تلوار کے زور پر دبایا جاسکے لوگ سرگوشیاں کرتے تھے کہ اس نے خود کو کچھ لوگوں پر ظاہر کیا ہے ۔ کوئی کہتا کہ وہ باغ میں ملا کوئی کہتا کہ راستے میں کوئی یہ بھی کہ اس نے اس کے ساتھ کھانا کھایا پہلے پہل تو میں نے انہیں سہمے دل کا خیال سمجھ کر ٹالنے کی کوشش کی لیکن جب ایک ہی بات الگ الگ لوگوں کے منہ سے سُننے لگا میرے اندر کا جھوٹ کمزور پڑنے لگا ایک شام میں پہرے سے لوٹ رہا تھا تو میں نے چند یہودیوں کو ایک گھر جمع ہوتے ہوئے دیکھا دروازہ بند تھا لیکن اندر سے آہستہ آہستہ آوازیں آرہی تھی خوف اور امید کا عجیب سے ملاپ مجھے حکم تھا کہ ایسے واقعات پر نظر رکھوں ۔ اس لیے میں پاس ہی رک گیا تبھی میں نے اس کا نام سنا یہ وہی نام تھا جو مَیں نے صلیب پر لکھا دیکھا تھا اور میں اندر سے کچھ کانپ گیا ۔ وہ لوگ کسی مرے ہوئے انسان کی بات نہیں کررہے تھے وہ ایسا ظاہر کررہے تھے جیسے کوئی ابھی بھی ان سے مل کر گیا ہو ۔ اس وقت میرے اندر کا سپاہی اور وہ آدمی جس نے خالی قبر دیکھی تھی آمنے سامنے کھڑے ہوگئے ۔ کچھ دنوں بعد ایک ایسا آدمی میرے سامنے آیا جس نے میرے سارے شک شبہات کو اور گہرا کردیا۔ وہ ان میں سے ایک تھا جسے میں نے سولی کے پاس کھڑے دیکھا تھا ڈرا ہوا ٹوٹا ہوا لیکن اب اس کی آنکھوں میں ڈر نہیں تھا ایک عجیب سے دلیری تھی جیسے کسی نے اس کے اندر ایک عجیب سا سچ رکھ دیا ہو جسے چھینا نہیں جا سکتا اس نے مجھے پہچانا اس نے میرے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور پھر میری آنکھوں میں دیکھا
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio