مَیں نے پہلی بار یہ قبول کیا اگر میں اس شخص کو سچ میں زندہ مانتا ہوں اور اس کی معافی

مَیں نے پہلی بار یہ قبول کیا اگر میں اس شخص کو سچ میں زندہ مانتا ہوں اور اس کی معافی کو سچ مانتا ہوں تو پھر مجھے اپنی زندگی کو بھی اسی سچائی کے راستے پر چلانا ہوگا ۔ مَیں نے آہستہ آہستہ خود کو ان شاگِروں کے قریب لانا شروع کیا اور ان کے بیچ بیٹھا سنا اور سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مجھ سے میری کہانی نہیں مانگی شاید اُنہیں پہلے سے پتہ تھا ۔ جب مَیں نے ان کو خود بتایا کیلوں کے بارے میں ۔ بھالے کے بارے میں۔ جھوٹ کے سِکوں کے بارے میں ۔ کسی نے مُجھ پر تھوکا نہیں۔ کسی نے مجھے باہر نہیں نکالا۔ انہوں نے بس سُنا ۔ اور ان کے سننے سے مجھے وہ چھٹکارا مِلا جِسے نہ روم دے سکا نہ تلوار ۔ پہلی بار مجھے لگا کہ میرا ماضی چاہے جتنا بھی کالا کیوں نہ ہو میری پہچان نہیں ہے ۔ وہ میری کہانی کا صرف ایک پنَہ ہے ۔ مَیں جانتا تھا یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ مَیں جانتا تھا کہ کیسے حکومت ایسے ایمان کو کچلنے کی کوشش کرتی ہے ۔ جو تلوار سے نہیں ڈرتا مَیں یہ بھی جانتا تھا مجھے ایک دن قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ شاید عہدے کی۔ شاید آزادی کی شاید زندگی کی بھی ۔ لیکن اس ڈر کے درمیان بھی ایک سکون تھا ۔ وہی سکون جو پہلی بار میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔ آج جب میں یہ سب لکھ رہا ہوں مَیں یہ نہیں کہتا کہ میں بے گناہ ہوں میں وہی آدمی ہوں جس نے کیلیں ٹھوکیں تھیں ۔ لیکن مَیں وہ بھی ہوں جس نے خالی قبر دیکھی جس نے جھوٹ بولا ۔ اور جس نے آخر میں سچ کو چُنا ۔ اگر میری کہانی کسی تک پہنچے تو میں یہی گواہی دینا چاہتا ہوں موت آخر نہیں ہے اور گناہ آخری پہچان نہیں ہے ۔ مَیں نے اسے مرتے دیکھا تھا اور میں نے اسے زندہ دیکھا ۔ اور انہی دو نظاروں کے بیچ میرا ماضی ختم ہوا اور ایک نئی زندگی شروع ہوئی
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio