رات کا وقت تھا۔ شہر کی روشنیاں آسمان کے ستاروں کو آہستہ آہستہ چھپا رہی تھیں۔ لیکن چھوٹی سی زارا ہر رات اپنی چھت پر جا کر ایک خاص ستارہ ڈھونڈتی تھی۔ “امی، وہ دیکھیں… میرا ستارہ!” زارا خوشی سے انگلی سے اشارہ کرتی۔ امی مسکراتے ہوئے کہتیں: “ہاں بیٹا، وہ تمہارا ہی ستارہ ہے… جو ہمیشہ تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔” زارا کا ماننا تھا کہ جب بھی وہ اداس ہوتی ہے، وہ ستارہ تھوڑا زیادہ چمکتا ہے۔ ایک دن اسکول میں زارا اداس ہو گئی۔ وہ ڈرائنگ مقابلے میں جیت نہیں سکی۔ گھر آ کر وہ خاموشی سے بیٹھی رہی۔ رات ہوئی… اور زارا بغیر کچھ کہے چھت پر چلی گئی۔ آج آسمان کچھ دھندلا تھا۔ ستارے کم نظر آ رہے تھے۔ “امی… میرا ستارہ کہاں گیا؟” زارا کی آواز ہلکی سی بھر آئی۔ امی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا: “بیٹا، کبھی کبھی بادل ستاروں کو چھپا دیتے ہیں… لیکن وہ ہمیشہ وہیں ہوتے ہیں۔” زارا نے آنکھیں بند کیں… اور آہستہ سے مسکرا دی۔ “تو کیا وہ ابھی بھی مجھے دیکھ رہا ہے؟” امی نے پیار سے کہا: “ہمیشہ۔” اس رات زارا نے پہلی بار سمجھا… کہ ہر روشنی ہمیشہ نظر نہیں آتی، لیکن وہ موجود ضرور ہوتی ہے۔ وہ ستارہ صرف آسمان میں نہیں تھا… وہ اس کے اندر بھی چمک رہا تھا۔ اور اس دن کے بعد… زارا نے کبھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کیا۔
0:00 / 0:00