تو آج ہم نے کیا دیکھا

تو آج ہم نے کیا دیکھا؟ ہم نے دیکھا کہ — ڈائنوسار اور ڈریگن کی تصویریں اتنی مشابہ ہیں — کہ صرف اتفاق سے نہیں سمجھایا جا سکتا۔ ہم نے دیکھا کہ — انسانی تاریخ میں پانچ مختلف زمانوں کے باقاعدہ ریکارڈ ہیں — جن میں ڈریگن جیسے جانوروں کا ذکر بطور حقیقی جانور ہے۔ ہم نے دیکھا کہ — سائنس نے خود ثابت کیا ہے — کہ جانور کروڑوں سال تک چھپے رہ سکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ — بیسویں اور اکیسویں صدی میں بھی — ایسے واقعات ہوئے — جن کا جواب سائنس آج تک نہیں دے سکی۔ تو پھر آخر میں وہی سوال — کیا ڈریگن حقیقی تھا؟ میرا جواب یہ ہے — میں نہیں جانتا۔ اور کوئی نہیں جانتا۔ لیکن یہ ضرور جانتا ہوں — کہ اس سوال کو صرف "خیالی بات" کہہ کر رد کر دینا — یہ سائنس نہیں ہے۔ کیونکہ سائنس وہ ہے — جو سوال کرے — جو ڈھونڈے — جو دریافت کرے۔ اور جب تک ہم دریافت نہیں کر لیتے — یہ سوال کھلا رہے گا۔ اور شاید — کسی دن — کانگو کے جنگل میں — یا سمندر کی گہرائی میں — یا کسی ایسی جگہ جہاں انسانی قدم نہیں پہنچا — وہاں سے — ایک جواب ملے گا۔ جو اس پوری سیریز کو — سچ ثابت کر دے گا۔ مکتبۂ قدیمہ کو سبسکرائب کریں — بیل آئیکن دبائیں — کیونکہ اگلی سیریز — اس سے بھی گہری — اس سے بھی اہم — اس سے بھی حیران کن ہوگی۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio