موت جسے میں اٹل مانتا آیا تھا میرے سامنے جھک چکی تھی اور میں جو کیلیں ٹھوکنے والا تھا اب ایسے راز کا گواہ بن چکا تھا جس نے میرے اندر جنم لیے ایمان کو روکا نہیں بلکہ اسے اور گہرا کردیا مجھے پتہ نہیں تھا آگے کیا ہونے والا ہے لیکن اتنا سمجھ چکا تھا اب میر ا جیون دو حصوں میں تقسیم ہوچکا ہے اس رات سے پہلے اور اس رات کے بعد سورج اگا تو ایسا لگا جیسے اس نے بھی رات کی کہانی چھپانے کا فیصلہ کر لیا ہو ۔ اس کی روشنی پہلے جیسی تھی اور پرندوں کی آوازیں بھی ویسی ہی تھی اور یروشلم آہستہ آہستہ جاگ رہا تھا لیکن میرے اندر بلکل پہلے جیسا نہیں تھا ۔ ہم تین سپاہی چپ چاپ کھڑے تھے ایک دوسرے کی آنکھوں سے بچتے ہوئے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ اگر ہم نے سچ بول دیا تو وہ سچ ہمیں ہی نگل جائے گا تھوڑی ہی دیر میں ہمارے عہدیدار پہنچے اور جب انہوں نے خالی قبر دیکھی تو ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ سوالوں کی بوچھاڑ ہوئی کون سویا تھا ? کس نے پہرہ چھوڑا ? کیا دیکھا ? اور ہر سوال میرے سینے پر ہتھوڑے کی طرح پڑ رہا تھا اور میں جانتا تھا جو میں نے دیکھا اسے کہنا میرے لیے سزا نہیں بلکہ شاید موت بھی ہوسکتی ہے ۔ ہمیں قبر کے اندر لے جایا گیا اور وہاں جو تھا وہ اتنا ہی بھاری تھا جتنا کل رات کا نظارہ ۔ رومی عہدیداروں اور یہودی مذہبی کاہنوں کے درمیان بات چیت پھسپھساہٹیں اور ڈر سے بھرے چہرے اور پھر ہمیں صاف لفظوں میں بتایا گیا کہ کیا بولنا ہے اور کیا بھول جانا ہے کہا گیا کہ رات میں شاگرد آئے ہم سو رہے تھے اور لاش چرا کر لے گے یہ کہانی اتنی کمزور تھی کہ کوئی بھی سمجھ سکتا تھا کہ جھوٹ ہے لیکن حکومت کو سچ نہیں بہانا چاہیے ہوتا ہے ہمیں چاندی کے سکے دیے گے اتنے زیادہ کہ عام سادہ سپاہی دیکھ کر چپ ہوجائے
0:00 / 0:00