اور آج تیرانہ یورپ کے سب سے رنگین شہروں میں سے ایک ہے۔ نارنجی، نیلا، سبز، گلابی۔ ہر ع

اور آج تیرانہ یورپ کے سب سے رنگین شہروں میں سے ایک ہے۔ نارنجی، نیلا، سبز، گلابی۔ ہر عمارت کا اپنا رنگ۔ تیرانہ کا دل ہے سکندربیگ اسکوائر جو کہ شہر کا مرکزی چوک ہے۔ یہاں البانیہ کے قومی ہیرو سکندربیگ کا بہت بڑا مجسمہ ہے۔ سکندربیگ کون تھا؟ یہ وہ جنگجو تھا جس نے پندرہویں صدی میں پچیس سال تک عثمانی فوجوں کو اپنے پہاڑوں میں روکے رکھا۔ اکیلے۔ یورپ اسے اپنا ہیرو مانتا ہے۔ اور البانیہ اسے اپنا قومی غرور۔ اسکوائر کے گرد آپ کو ملے گا نیشنل ہسٹری میوزیم۔ جہاں البانیہ کی پوری تاریخ، تصویروں اور نوادرات کی صورت میں محفوظ ہے۔ پاس ہی ہے بنک آرٹ میوزیم جو دراصل کمیونزم کے دور کا ایک بہت بڑا زیرِ زمین بنکر تھا اور اب اسے آرٹ گیلری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انتہائی دلچسپ جگہ۔ تیرانہ میں ایک اور چیز ہے جو آپ کو حیران کر دے گی۔ شہر کے عین بیچ میں ایک بہت بڑا پیرامڈ۔ یہ کوئی مصری پیرامڈ نہیں بلکہ کمیونزم کے دور میں انور خوجہ کی یاد میں بنایا گیا تھا۔ خوجہ کے مرنے کے بعد کمیونزم ختم ہوا تو لوگوں نے اسے نظر انداز کر دیا۔ اب اسے کلچرل سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور نوجوان اس کی ڈھلوانوں پر چڑھ کر شہر کا نظارہ کرتے ہیں۔ تیرانہ دیکھنے کے بعد ہم نکلتے ہیں بیرات کی طرف۔ تیرانہ سے صرف دو گھنٹے کی ڈرائیو پر۔ بیرات کو کہتے ہیں ہزار کھڑکیوں کا شہر۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں عثمانی دور کے سفید گھر پہاڑی کے اوپر اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ ان کی بڑی بڑی کھڑکیاں نیچے وادی کو دیکھتی ہیں اور دور سے دیکھنے پر لگتا ہے جیسے ہزاروں آنکھیں آپ کو دیکھ رہی ہوں۔ یہ شہر یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں ہے اور سچ میں جب آپ یہاں جائیں گے تو لگے گا جیسے وقت سو سال پیچھے چلا گیا ہو۔ بیرات میں بیرات قلعہ ہے جو پہاڑی کی چوٹی پر ہے
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio