میں نے پہلے دعا کرنے کی کوشش کی لیکن الفاظ نہیں آئے ۔ میرے دیوتا پتھروں کے تھے اور پت

میں نے پہلے دعا کرنے کی کوشش کی لیکن الفاظ نہیں آئے ۔ میرے دیوتا پتھروں کے تھے اور پتھر اس رات لُڑھک چکا تھا ۔ میرے اندر ایک بات تھی جو کہہ رہی تھی اگر وہ واقعی زندہ ہے۔ تو کہانی یہی ختم نہیں ہوسکتی ۔؟ اور نہ ہی میرا جھوٹ مجھے سکون دے سکتا ہے۔ اُس دن کے بعد میں پہرے پر وہی رہا لیکن اندر سے بدل چکا تھا ۔ میں جانتا تھا آج نہیں تو کل مجھے اس سچ کا سامنا کرنا ہی پڑے گا جِسے میں نے دیکھا ہے اور جسے اب جھوٹ سے ڈھکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اور کہی نہ کہی اُس آدمی کی وہی خاموش نظریں۔ جِس نے مجھے صلیب پر دیکھا تھا اب بھی میرے پیچھے چل رہی تھیں۔ اور وہ بھی مجھ سے یہی پوچھ رہی ہوں کہ جب سچ سامنے ہے تو مَیں اس سے کب تک بھاگتا رہونگا ؟ دن گزرتے گے لیکن وہ رات میرے اندر جمی رہی جیسے کوئی آگ جو باہر سے دکھائی نہیں دیتی پر اندر سب کچھ بدل دیتی ہے ۔ میں اپنے کام پر لوٹ آیا تھا شہر میں افواہیں پھیلنے لگی تھیں۔ اور یہ افواہیں ایسی نہیں تھیں جنہیں تلوار کے زور پر دبایا جاسکے ۔ لوگ سرگوشیاں کرتے تھے کہ اُس نے خود کو کچھ لوگوں پر ظاہر کِیا ہے ۔ کوئی کہتا کہ وہ باغ میں ملا کوئی کہتا کہ راستے میں ۔ کوئی یہ بھی کہ اس نے اس کے ساتھ کھانا کھایا ۔ پہلے پہل تو میں نے انہیں سہمے دل کا خیال سمجھ کر ٹالنے کی کوشش کی۔ لیکن جب ایک ہی بات الگ الگ لوگوں کے منہ سے سُننے لگا میرے اندر کا جھوٹ کمزور پڑنے لگا ۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio