پاکستانی فلمی دنیا کی تاریخ میں اگر کسی اداکارہ نے حسن، وقار، سنجیدگی اور اداکاری کے اعلیٰ معیار کو ایک ساتھ یکجا کیا تو وہ نام زیبا کا ہے، جنہیں شوبز کی دنیا میں “ملکۂ جذبات” بھی کہا جاتا ہے۔ زیبا کا اصل نام شاہین تھا، اور وہ 1945 میں بھارتی شہر امبالہ میں پیدا ہوئیں، مگر تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہو گیا۔ ان کی زندگی کا سفر عام نہیں تھا، بلکہ جدوجہد، ہمت اور مسلسل محنت سے بھرا ہوا تھا۔ زیبا نے اپنے کیریئر کا آغاز 1960 کی دہائی میں کیا، جب پاکستانی فلم انڈسٹری ترقی کی راہ پر گامزن تھی۔ ان کی پہلی فلم “چراغ جلتا رہا” (1962) تھی، جس میں انہوں نے اپنی سادہ مگر پُراثر اداکاری سے سب کو متاثر کیا۔ یہ فلم خود پاکستانی سینما کی تاریخ میں ایک سنگِ میل سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں مستقبل کے سپر اسٹار وحید مراد بھی متعارف ہوئے تھے۔ زیبا کی شخصیت میں ایک خاص وقار اور سنجیدگی تھی جو انہیں دیگر اداکاراؤں سے منفرد بناتی تھی، اور یہی وجہ تھی کہ وہ جلد ہی فلمی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان کی اداکاری میں جذبات کی گہرائی، مکالموں کی ادائیگی میں ٹھہراؤ، اور کردار میں ڈوب جانے کی صلاحیت انہیں ایک مکمل اداکارہ بناتی تھی۔ زیبا نے صرف خوبصورتی کے بل پر نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔ ان کی فلموں میں “ارمان” (1966)، “انجمن” (1970)، “دل دیا درد لیا”، “محبت زندگی ہے”، “ناگ منی”، “تصویر”، “بندش”، “زندگی کتنی حسین ہے”، “سہیلی”، “آئینہ”، اور “میری زندگی ہے نغمہ” جیسی فلمیں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف باکس آفس پر کامیابی حاصل کی بلکہ شائقین کے دلوں میں بھی ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔
0:00 / 0:00