AchirdUse these settings →
آپ مجھے اس کے پاس جانے دیں " ذوکوئی نے چوتھی بار کہا ” میں اُسے شیشے میں اتار لوں گی ۔ " بیکار ہے “ ناجی نے گرج کر کہا۔ وہ کمبخت حکم نامہ جاری کر چکا ہے جس پر عمل بھی شروع ہو چکا ہے ۔ مجھے اس نے کہیں کا نہیں رہنے دیا ۔ اس پر تمہارا جادو نہیں چل سکا۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے خلاف یہ سازش کرنے والے لوگ کون ہیں ۔ وہ میری ابھرتی ہوئی حیثیت سے حسد کرتے ہیں ۔ میں امیر مصر بنے والا تھا۔ میں نے یہاں کے حکمرانوں پر حکومت کی ہے حالانکہ میں معمولی سا سالار تھا۔ اب میں سالار بھی نہیں رہا۔ اس نے دربان کو اندر بلا کر کہا کہ اوروش کو بلا لائے ۔ اس کا ہمراز اور نائب اوروش آیا تو ناجی نے اس کے ساتھ بھی اسی موضوع پر بات کی ۔ اُسے وہ کوئی نئی خبر نہیں سنا رہا تھا۔ اوروش کے ساتھ وہ صلاح الدین ایوبی کے نئے حکم نامے پر تفصیلی تبادلہ خیالات کر چکا تھا مگر دونوں اس کے خلاف کوئی کارروائی سوچ نہیں سکے تھے ۔ اب اس کے دماغ میں ایک کارروائی آگئی تھی۔ اس نے اوروش سے کہا " میں نے جوابی کارروائی سوچ لی ہے ۔ " کیا ؟ " " بغاوت " ناجی نے کہا ۔ اوروش چپ چاپ اُسے دیکھتا رہا ۔ ناجی نے کہا۔ " تم حیران ہو گئے ہو؟ کیا تمہیں شک ہے کہ یہ پچاس ہزار سوڈانی فوج ہماری وفادار نہیں ؟ کیا یہ صلاح الدین ایوبی کی نسبت مجھے اور تمہیں اپنا حاکم اور بہی خواہ نہیں سمجھتی ؟ کیا تم اپنی فوج کو یہ کہ کر بغاوت پر آمادہ نہیں کر سکتے کہ تمہیں مصربوں کا غلام بنایا جا رہا ہے اور مصر تمہارا ہے ؟ اوروش نے گہری سانس لے کر کہا میں نے اس اقدام پر غور نہیں کیا تھا ۔ بغاوت کا انتظام ایک اشارے پر ہوسکتا ہے لیکن مصر کی فوج بغاوت کو دبا سکتی ہے اور اس فوج کو کمک بھی مل سکتی ہے ۔ حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ہمیں ہر پہلو پر غور کر لینا چاہیئے ۔ " میں غور کر چکا ہوں “ ناجی نے جواب دیا ۔ میں عیسائی بادشاہوں کو مدد کے لیے بلا رہا ہوں ۔ تم دو پیامبر تیار کرو۔ انہیں بہت دور جانا ہے ۔ آؤ میری باتیں غور سے سُن لو۔ ذوکوئی ! تم اپنے کمرے میں چلی جاؤ" ذوکوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اور وہ دونوں ساری رات اپنے کمرے میں بیٹھے رہے۔ صلاح الدین ایوبی نے دونوں فوجوں کو مدغم کرنے کا وقت سات روز مقرر کیا تھا ۔ کاغذی کارروائی ہوتی رہی ۔ ناجی پوری طرح تعاون کرتا رہا۔ چار روز گذر چکے تھے۔
0:00 / 0:00