جب کشتی تیار ہو گئی، تو اللہ کا حکم آیا کہ ہر جانور کا ایک ایک جوڑا اور ایمان والے لوگوں کو کشتی میں سوار کر لو۔ اچانک آسمان سے زور دار بارش شروع ہو گئی، اور زمین سے بھی پانی ابلنے لگا۔ پانی بڑھتا گیا، یہاں تک کہ پہاڑ بھی ڈوب گئے۔ یہ ایک عظیم طوفان تھا۔ جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے، وہ سب غرق ہو گئے۔ حضرت نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا بھی ایمان نہیں لایا تھا۔ انہوں نے اسے کشتی میں آنے کو کہا، لیکن اس نے انکار کر دیا اور پہاڑ پر چڑھنے لگا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کہا: “آج اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا!” اور آخرکار وہ بھی پانی میں ڈوب گیا۔ کشتی پانی پر تیرتی رہی، اور اللہ کے حکم سے محفوظ رہی۔ کئی دنوں کے بعد اللہ نے حکم دیا: “اے زمین! اپنا پانی نگل جا، اور اے آسمان! رک جا!” پانی کم ہونے لگا، اور کشتی ایک پہاڑ پر ٹھہر گئی۔ یہ پہاڑ **جودی** کہلاتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والے لوگ محفوظ رہے۔ اور یوں ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ --- ## 📌 سبق (Lesson) حضرت نوح علیہ السلام کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے: * حق کی دعوت کبھی نہیں چھوڑنی چاہیے * صبر سب سے بڑی طاقت ہے * اللہ پر یقین رکھنے والے ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں
0:00 / 0:00