اس کے سر پر کانٹوں کا تاج تھا اور خون اس کے چہرے سے بہتا ہوا گردن تک آرہا تھا پھر بھی اس کی چال میں کوئی فریب نہیں تھا اور نا ہی آنکھوں میں کوئی موت کا خوف جو اکثر مرنے سے پہلے ہوتا تھا۔ جب اسے لکڑی کی صلیب اٹھانے کو کہا گیا تو اس نے بِنا انکار کرنے کے صلیب اٹھائی ۔ کچھ قدم چلا پھر گِر پڑا ہجوم ہنسا ۔ کچھ نے اسے دَھکا دیا کچھ نے بُرا بھلا کہا ۔ کچھ ایسے بھی تھے جو خاموشی سے سارا منظر دیکھ رہے تھے جیسے کچھ سمجھ نا پا رہے ہوں وہ کس کا آخر دیکھنے آئے ہوں۔ مجھے یاد ہے اِس وقت میرے دل میں ایک عجیب سا خیال آیا کہ یہ آدمی مُجرم سے زیادہ تھکا ہوا شخص لگ رہا ہے جیسے کسی لمبے سفر سے اب آخری منزل پر آچکا ہو ۔ گلگتہ یعنی کھوپڑی کے مقام پہنچتے پہنچتے سورج کافی تیز ہوچکا تھا۔ پتھروں سے اٹھتی ہوئی گرمی ہمارے پاوں کے ذریعے جسم پر چڑھتی جارہی تھی ۔ سپاہیوں نے صلیب زمین پر رکھی اور اُسے صلیب پر لیٹایا گیا ۔ یہ وہ وقت تھا جہاں میرا کام شروع ہوتا تھا وہ کام جسے میں یاد نہیں رکھتا تھا ۔ کیونکہ ہر سولی ایک جیسی ہوتی تھی ۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا کِیل کو سہی جگہ پر رکھااور ہتھوڑا اٹھایا عام طور پر اس وقت قیدی چیختا ہے۔ گالی دیتا ہے۔ یا آخری بار زندہ رہنے کی بھیک مانگتا ہے ۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔ اس نے میری طرف دیکھا اور مجھے حیران کردیا, کیونکہ اس میں نا ڈر تھا نا رحم کی گُہار اور نا ہی سودا اس کی نظر کچھ ایسی تھی جیسے وہ مجھے دیکھ نہ رہا ہو بلکہ میرے اندر کچھ ڈھونڈھ رہا ہو ۔ میرے پیچھے کھڑے سپاہی نے حُکم دہرایا اور میں نے ہتھوڑا چلایا پہلی چوٹ پر اس کا جسم سیمٹا دوسری چوٹ پر سانس تیز ہوگی اور تیسری چوٹ پر کیل لکڑی میں دھنس گی ۔ وہ درد میں تھا اس میں کوئی شک نہ تھا
0:00 / 0:00