Achird
Use these settings →2026-04-08
باڈی گارڈز کا ہجوم تھا جو ایک وسیع میدان کے گرد دیواروں کی طرح کھڑا تھا ۔ ایک طرف صلاح الدین ایوبی کے بیٹھنے کے لیے جو مسند رکھی گئی تھی وہ کسی بہت بڑے بادشاہ کا تخت معلوم ہوتی تھی۔ اس کے دائیں بائیں بڑے رتبوں کے مہمانوں کی نشستیں تھیں ۔ اس وسیع و عریض تماشہ گاہ سے تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت خوبصورت خیمے نصب تھے ۔ ان سے ہٹ کر ایک بڑا خیمہ صلاح الدین ایوبی کے لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی ۔ علی بن سفیان نے سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں جا کر اس خیمے کے ارد گرد محافظ کھڑے کر دیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وہاں محافظ کھڑے کر رہا تھا ، ناجی ، ذوکوئی کو آخری ہدایات دے رہا تھا ۔ اُس شام ذوکوئی کا حُسن کچھ زیادہ ہی نکھر آیا تھا۔ اُس کے جسم سے ایسے عطر کی بھینی بھینی خوشبو اٹھ رہی تھی جس میں سحر کا تاثر تھا ۔ اُس نے بال عریاں کندھوں پر پھیلا دیئے تھے ۔ سپید کندھوں پر سیاہی مائل بھورے بال زاہدوں کی نظروں کو گرفتار کرتے تھے ۔ اس کا لباس اس قدر باریک تھا کہ اس کے جسم کے تمام نشیب و فراز نظر آتے تھے ۔ اس کے ہونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی مانند تھا۔ ناجی نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا ۔ " صلاح الدین ایوبی پر تمہارے جسمانی حسن کا شاید اثر نہ ہو ۔ اپنی زبان استعمال کرنا۔ وہ سبق بھولنا نہیں جو میں اتنے دنوں سے تمہیں پڑھا رہا ہوں اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اُس کے پاس جا کر اس کی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درخت کی چوٹی پر نظر آتا ہے مگر درخت پر چڑھ کر دیکھو تو غائب ہو جاتا ہے ۔ اُسے اپنے قدموں میں بٹھا لینا۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کر لو گی ۔ اسی سرزمین میں قلوپطرہ نے سیزر جیسے مرد آہن کو اپنے حسن و جوانی سے پگھلا کر مصر کی ریت میں بہا دیا تھا ۔ قلوپطرہ تم سے زیادہ خوبصورت نہیں تھی ۔ میں نے تمہیں جو سبق دیتے ہیں وہ قلوپطرہ کی چالیں تھیں ۔ عورت کی یہ چالیں کبھی ناکام نہیں ہو سکتیں ہیں۔ ذوکوئی مسکرا رہی تھی اور بڑے غور سے سُن رہی تھی۔
ID: 83d927fd-181b-44f7-b7d9-a478350fd66d
Created: 2026-04-08T13:52:48.248Z