اور مَیں نے بھالے کو کَس کے پکڑ لیا۔ ہوا اچانک تیز ہوگی اور مشال کی لوو کانپنے لگی او

اور مَیں نے بھالے کو کَس کے پکڑ لیا۔ ہوا اچانک تیز ہوگی اور مشال کی لوو کانپنے لگی اور آسماں میں جیسے روشنی پُھٹ پڑی ہو ۔ مَیں نے سر اٹھا کے دیکھا ۔ ایک نور جو آگ جیسا نہیں تھا لیکن آگ سے زیادہ تیز تھا۔ قبر کے پاس اترا وہ کوئی آدمی نہیں تھا لیکن اس کی موجودگی نے مجھے یہ بھی نہیں کہنے دیا کہ وہ کوئی اور مخلوق ہے۔ اُس کی پوشاک نے اندھیرے کو چیر دیا ۔ اُسی پل وہ بھاری پتھر جسے کئی آدمی مل کر لُڑھکاتے تھے ۔ ایسے ہی کِھسک گیا جیسے کسی بچے نے اسے دھکیل دیا ہو ۔ میرے ساتھ کھڑے سپاہی خوف کے مارے سُن ہوگئے۔ کسی کی چیخ نہین نکلی کسی کی آواز نہیں آئی۔ جیسے ڈر نے ہمارے گلے پکڑ لیے ہوں ۔ مَیں نے اپنے اندر کچھ ٹوٹتے ہوئے محسوس کِیا وہ ڈر اور وہ گھمنڈ کہ میں سب کچھ سمجھتا ہوں۔ اور وہ اندھا اعتماد کہ روم کی طاقت سے بڑا کچھ نہیں ہوسکتا۔ مَیں زمین پر گِرا نہ ہی بھالا چُھوٹا ۔ لیکن جسم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ۔ اُس تیز نور نے میرے سارے گناہ سارے حکم اور ساری زیادتیاں ایک ساتھ یاد کروا دی۔ مَیں نے کیلوں کو ایک بار پھر سے محسوس کِیا ۔ ہتھوڑے کی چوٹ کو ۔ اُس پیار بھری نظر کو ۔ جِس نے مجھے صلیب پر دیکھا تھا جب میں نے ہمت کرکے قبر کی طرف دیکھا تو قبر خالی تھی ۔ وہاں کوئی جسم نہ تھا کوئی لاش نہ تھی اور ایک عجیب سی آواز تھی۔ جیسے کسی نے کہہ دیا ہو کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کچھ دیر بعد وہ اُجالا ویسے ہی مدھم ہوگیا جیسے آیا تھا ۔ اور رات پھر سے رات بن گی۔ لیکن اب وہ پہلے جیسے نہیں تھی مَیں آہستہ آہستہ اٹھ کر کھڑا ہوا ہاتھ کانپ رہے تھے دل دھڑک رہا تھا اور دماغ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ ابھی ابھی یہ کِیا دیکھا ہے ؟
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio