مگر وہ شخص جس کے لباس یا لائف اسٹائل کی چمک زیادہ ہو، فوراً توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔فلمیں، ڈرامے اور گانے بھی اس رجحان کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ سینما کے سکرین پر نظر آنے والے ہیروز اور ہیروئنز کی زندگی کی جھلکیں، مہنگے کپڑے، جوتے اور لگژری گاڑیاں نوجوان کے ذہن میں معیار بن جاتی ہیں۔ فلموں کے جادو میں یہ بات مدغم ہو جاتی ہے کہ شخصیت اور اخلاق کی قدر کم ہے، اور ظاہری جمالت زیادہ۔ یہی معیار سچ اور جھوٹ، محنت اور دکھاوا، اخلاق اور سطحیت کے درمیان فرق کو دھندلا دیتا ہے۔شہری اور دیہی زندگی کا یہ تضاد بھی دلچسپ ہے۔ شہر کی تیز رفتار زندگی، مارکیٹ کی روشنی، سوشل میڈیا کی دوڑ، اور فلموں کی جھلکیں نوجوان کو ایک مصنوعی دنیا میں لے آتی ہیں، جبکہ دیہات کی سادگی اور حقیقی زندگی کے تجربات کم اثر ڈال پاتے ہیں۔ نوجوانوں کی توجہ صرف ظاہری چمک پر جاتی ہے اور حقیقی قدر پس منظر میں چھپ جاتی ہے۔دنیا کے ان ممالک میں جہاں تعلیم ‘علم’ اخلاق اور ہمدردی کو سب سے اوپر رکھا گیا ہے، وہاں انسان کی پہچان اس کے کردار، سوچ اور صلاحیت سے ہوتی ہے، نہ کہ کپڑوں یا دکھاوے سے۔افلاطون نے کہا تھا انسان کی اصل قیمت اس کے دل اور دماغ میں ہے نہ کہ اس کے جسم یا لباس میں۔کانٹ نے فرمایاانسان کی عظمت اس کے کردار اور سوچ میں ہے نہ کہ اس کے بیرونی لباس میں۔وہ فلسفیانہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر انسان کی قدر اس کی باطنی روشنی میں چھپی ہوتی ہے
0:00 / 0:00