"احمد صاحب علی صاحب کے گھر جاتے ہیں۔ احمد صاحب دروازے پر دستک ہیں۔ علی صاحب دروازہ کھولتے ہیں اور کہتے ہیں، السلام علیکم احمد صاحب! آپ کیسے ہیں؟ کیا سب خیریت ہے؟ احمد صاحب مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں، وعلیکم السلام علی صاحب، جی ہاں، اللہ کا شکر ہے، سب خیریت ہے۔ کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ علی صاحب کہتے ہیں، جی ضرور، اندر آئیے اور یہاں بیٹھیے ۔ احمد صاحب اندر آتے ہیں اور ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھتے ہیں۔ علی صاحب اپنے چھوٹے بیٹے عثمان کو بلاتے ہیں اور کہتے ہیں، عثمان، احمد صاحب کے لیے ٹھنڈا پانی لاؤ ۔ عثمان پانی لاتا ہے اور احمد صاحب پانی پیتے ہیں۔ علی صاحب احمد صاحب سے پوچھتے ہیں، آپ آج کیا کھانا پسند کریں گے؟ احمد صاحب بتاتے ہیں، شکریہ، لیکن میں نے ابھی گھر پر کھانا کھایا ہے۔ میں صرف چائے پیوں گا ۔ علی صاحب کچن میں جاتے ہیں اور چائے بناتے ہیں۔ اس دوران احمد صاحب اپنے بیگ سے ایک نئی کتاب نکالتے ہیں۔ وہ کتاب کو غور سے دیکھتے ہیں اور پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ علی صاحب چائے لے کر آتے ہیں اور احمد صاحب کو چائے دیتے ہیں۔ احمد صاحب چائے پیتے ہیں اور کتاب کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، علی صاحب، یہ کتاب بہت دلچسپ ہے۔ کیا میں یہ آپ کو پڑھ کر سناؤں؟ علی صاحب کہتے ہیں، جی ہاں، میں سننا چاہتا ہوں ۔ احمد صاحب بلند آواز میں پڑھتے ہیں اور علی صاحب سنتے ہیں۔ پھر احمد صاحب اپنی ڈائری میں کچھ اہم باتیں لکھنا شروع کرتے ہیں۔ وہ اردو میں لکھتے ہیں۔ علی صاحب پوچھتے ہیں، آپ کیا لکھتے ہیں؟ احمد صاحب بولتے ہیں، میں روزانہ ڈائری لکھتا ہوں، یہ میرا شوق ہے ۔ وہ دونوں اردو میں باتیں کرتے ہیں۔ احمد صاحب کہتے ہیں، اب مجھے اپنے دفتر جانا ہے، وہاں بہت کام کرنا ہے ۔ علی صاحب کہتے ہیں، ٹھیک ہے، آپ کا آنا بہت اچھا لگ
0:00 / 0:00