یہ الفاظ عائشہ کے لیے کسی مرہم سے کم نہیں تھے۔ پہلی بار اس نے سکون کی نیند سوئی۔ پہلی بار اس نے بغیر ڈر کے مسکرایا۔ مگر خوشیوں کے بیچ ایک غم چھپا بیٹھا تھا۔ شادی کے صرف ایک ہفتے بعد خبر آئی کہ چچا کا انتقال ہو گیا ہے۔ عائشہ کے ہاتھ سے فون گر گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ “نہیں… چچا…” وہ فوراً گاؤں گئی۔ جنازے میں شرکت کی، اور اپنے چچا کے پاس بیٹھ کر بہت روئی۔ “آپ ہی تو تھے جو مجھے سمجھتے تھے…” چند دن بعد وہ واپس اپنے گھر آ گئی، مگر دل میں ایک خلا رہ گیا تھا۔ ایک شام دروازے پر دستک ہوئی۔ عائشہ نے دروازہ کھولا—سامنے چچی کھڑی تھی۔ مگر وہ پہلے جیسی نہیں تھی۔ اس کا غرور ٹوٹ چکا تھا، آنکھوں میں آنسو تھے، اور آواز کانپ رہی تھی۔ “عائشہ… مجھے معاف کر دو…” وہ روتے ہوئے بولی، “میں نے تمہارے ساتھ بہت ظلم کیا۔ مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے۔ اب میرا کوئی نہیں… مجھے اپنے پاس رکھ لو…” عائشہ خاموش ہو گئی۔ اس کے ذہن میں وہ سب لمحے ایک فلم کی طرح چلنے لگے—مار، ذلت، آنسو، تنہائی… اس نے گہری سانس لی اور آہستہ سے کہا، “چچی… میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے…” چچی کی آنکھوں میں امید کی چمک آئی، مگر اگلے الفاظ نے اسے توڑ دیا۔ “لیکن میں سب کچھ بھول نہیں سکتی۔ آپ نے میرے بچپن کو اذیت بنا دیا۔ جب مجھے محبت کی ضرورت تھی، آپ نے مجھے درد دیا۔” چچی زار و قطار رونے لگی، “مجھے ایک موقع دے دو…” عائشہ کی آواز مضبوط ہو گئی، “ہر انسان کو اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنا پڑتا ہے۔ میں آپ کو اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتی۔” چچی کے قدم لڑکھڑا گئے۔ وہ خاموشی سے مڑ گئی اور چلی گئی—اس بار واقعی اکیلی۔ عائشہ نے دروازہ بند کیا، آنکھیں بند کیں، اور ایک آنسو اس کے گال پر بہہ گیا—مگر یہ آنسو کمزوری کا نہیں، سکون کا تھا۔
0:00 / 0:00