ہجوم بے چین ہونے لگا کچھ خاموش ہوگئے۔ کچھ نے دعائیں شروع کیں۔ میرے ضمیر میں بھی انجانا ڈر اٹھنے لگا۔ اور میں نے پہلی بار سوچا شاید ہم ایک آدمی کو نہیں مار رہے بلکہ کسی ایسی چیز سے ٹکرا رہے ہیں جسے ہم سمجھتے نہیں ۔ اُوپر سے دوبارہ اُس کی آواز آئی ۔ کمزور ٹوٹی ہوئی لیکن صاف ۔ اُس نے اپنے خدا کو پُکارا جیسے کوئی بچہ اندھیرے میں اپنے باپ کو پکارتا ہو ۔ اس پُکار میں شکایت بھی تھی اور بھروسہ بھی۔ اور یہی بات سب سے زیادہ میرے اندر بھی چُبی۔ میں نے اپنے دیوتاوں کے بارے میں بہت سنا تھا ۔ لیکن کبھی کسی آدمی کو ایسے بھروسے کے ساتھ پکارتے نہیں دیکھا تھا۔ اُس وقت مجھے احساس ہوا یہ آدمی ہار نہیں رہا بلکہ کچھ پورا کررہا ہے ۔ جب اُس نے آخری بار سانس لی اور زمین ہِل گی پتھر کانپ اٹھے اور کچھ دُور چیخوں کی آواز سنائی دی میرے ہاتھ خودبخود بھالے کے ساتھ کَس گے۔ اور دِل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں نے اُس کی طرف اوپر دیکھا تو اُس کا جسم اب بلکل بے جان تھا۔ ہجوم میں بِلکل خاموشی چھاگی تھی۔ اور اس خاموشی میں میرے اندر ایک واقعہ اُبھر آیا ۔ جسے میں دبانے کی کوشش کررہا تھا لیکن دبا نہیں پا رہا تھا ۔ اِس پل ایک رومی سپاہی ہونے کے باوجود میرے دل میں مسلسل یہ خیال آ رہا تھا کہ یہ آدمی کوئی عام نہیں تھا ۔ اور جو کچھ آج ہم نے کِیا ہے۔ اس کا بوجھ اب کبھی مجھ پہ ہلکا نہیں ہوگا ۔ جب وہ خاموش ہوگیا اور اس کا سر ایک طرف جھک گیا ۔ تو کچھ پل کے لیے مجھے محسوس ہوا کہ وقت رُک گیا ہے۔ ہوا میں موجود ایک بھاری سی چُپی تھی جیسے پورا پہاڑ سانس رُوکے کھڑا ہو۔
0:00 / 0:00