یہاں ایک بات بہت قابل غور ہے۔ تاجکستان میں بہت سے مرد بیرون ملک خاص طور پر روس میں کا

یہاں ایک بات بہت قابل غور ہے۔ تاجکستان میں بہت سے مرد بیرون ملک خاص طور پر روس میں کام کرتے ہیں۔ تقریباً دس لاکھ سے زیادہ تاجک روس میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور وہاں سے پیسے وطن بھیجتے ہیں۔ اس کو ریمیٹنس کہتے ہیں۔ اور تاجکستان کی معیشت میں ریمیٹنس کا حصہ دنیا میں سب سے زیادہ جی ڈی پی فیصد میں سے ایک ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق تقریباً تیس سے چالیس فیصد تک۔ یعنی تاجکستان کی اقتصادی کمر کافی حد تک بیرون ملک محنت کرنے والے تاجکوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ دوستو اب بات کرتے ہیں اس ملک کی معیشت کی۔ تاجکستان وسطی ایشیا کا سب سے غریب ملک ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کی مجموعی جی ڈی پی تقریباً دس سے بارہ ارب ڈالر کے آس پاس ہے۔ یہ بہت چھوٹی معیشت ہے۔ فی کس آمدنی کا حساب لگائیں تو یہ تقریباً ایک ہزار سے دس سو ڈالر سالانہ کے قریب بنتی ہے جو کہ بہت کم ہے۔ مگر یہاں کچھ قدرتی وسائل ضرور ہیں۔ تاجکستان میں ایلومینیم کا ایک بہت بڑا کارخانہ ہے جو ملک کی برآمدات کا بڑا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پانی کے وسائل بے انتہا ہیں۔ پہاڑوں سے نکلنے والے دریا ہیں، گلیشیئرز ہیں اور ان سے پن بجلی بنانے کی بہت بڑی صلاحیت ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی منصوبوں میں سے ایک یعنی روگن ڈیم تاجکستان میں بن رہا ہے جو مکمل ہونے کے بعد پورے خطے کو بجلی فراہم کر سکتا ہے۔ تاجکستان کی کرنسی کا نام ہے سومونی۔ تاجکستانی سومونی۔ ایک امریکی ڈالر تقریباً دس سے گیارہ سومونی کے برابر ہے۔ اگر آپ ایک پاکستانی ہیں اور تاجکستان جائیں تو وہاں زندگی آپ کو نسبتاً سستی لگے گی۔ کیونکہ روزمرہ اخراجات پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی یا لاہور سے زیادہ مختلف نہیں۔ دوستو اب وہ سوال جو شاید بہت سے پاکستانیوں کے ذہن میں ہوگا۔ کیا پاکستانی تاجکستان جا سکتے ہیں؟
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio