رومی عہدیداروں اور یہودی مذہبی کاہنوں کے درمیان بات چیت پھسپھساہٹیں اور ڈر سے بھرے چہ

رومی عہدیداروں اور یہودی مذہبی کاہنوں کے درمیان بات چیت پھسپھساہٹیں اور ڈر سے بھرے چہرے ۔ اور پھر ہمیں صاف لفظوں میں بتایا گیا کیا بولنا ہے اور کیا بُھول جانا ہے۔ کہا گیا کہ رات میں شاگرد آئے ہم سو رہے تھے اور لاش چُرا لے گے ۔ یہ کہانی اتنی کمزور تھی کہ کوئی بھی سمجھ سکتا تھا کہ جھوٹ ہے۔ لیکن حکومت کو سچ نہیں بہانا چاہیے ہوتا ہے ۔ ہمیں چاندی کے سِکے دیے گے اتنے زیادہ کہ عام سادہ سپاہی دیکھ کر چپ ہوجائے ۔ میں سِکوں کو ہاتھ میں لِیا۔ اور وہ مجھے جَلتے ہوئے لگے جیسے اُن میں اس خالی قبر کی ٹھنڈک اور اس اُجالے کی گرمی دونوں بند ہوں ۔ اس دن مَیں اس شہر میں گھومتا رہا لیکن ہر چہرہ مجھے اسی آدمی کی یاد دلا رہا ہو۔ کچھ لوگ پھسپھسا رہے تھے کہ اس نے سچ مچ موت کو ہرا دیا ہے کچھ ڈر کے مارے چُپ تھے اور کچھ غصے میں تھے کیونکہ اگر یہ سچ تھا تو اُن کی مکمل دنیا ہل جانے والی تھی۔ مَیں ایک رومی سپاہی ہوتے ہوئے بھی خود کو اجنبی محسوس کررہا تھا۔ جیسے میں کسی اور زندگی جی رہا ہوں ۔ میرے اندر ہی اندر ایک لڑائی چل رہی تھی۔ مَیں وفادار رہوں یا سچا ؟ روم نے مجھے سکھایا تھا کہ حکم سب سے اوپر ہوتا ہے۔ لیکن اس خالی قبر نے مجھے سکھایا تھا کہ سچ حُکم سے بھی افضل ہوسکتا ہے۔ رات کو جب میں تنہائی میں لیٹا تو نیند میری آنکھوں میں بلکل نہیں تھی۔ مَیں ان چاندی کے سِکوں کو دیکھتا اور سوچتا رہا کہ کیا ان کو لے کر میں اپنے ہاتھ دھو سکتا ہوں ؟ وہ ہاتھ جنہوں نے کیلیں ٹھوکی تھی ۔
0:00 / 0:00
Share

More Urdu voice samples

← Return to Studio